کانگریس کا منموہن سنگھ کی حمایت میں مارچ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منموہن سنگھ نے کانگریس کے سینیئر رہمناؤں کا استقبال کرتے ہوئے کہا انہيں پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کی اس حمایت سے انتہائی خوشی ہوئی

بھارت میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس کے سینیئر رہنماؤں نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کی حمایت میں ان کی رہائش گاہ تک مارچ کیا ہے۔

منموہن سنگھ کو اپنے دور اقتدار میں کوئلے کی کانوں کی نیلامی میں بدعنوانی کے معاملے میں ایک عدالت نے ملزم کے طور پر طلب کیا ہے۔

کانگریس نے اس معاملے پر مودی حکومت کی خاموشی پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کیس کا پوری طاقت سے مقابلہ کرے گی۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جمعرات کی صبح پارٹی کے صدر دفتر پر پارٹی کی پالیسی ساز کمیٹی کے ارکان کی ایک میٹنگ کی اور اس کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ سے اتحاد اور یکجہتی کے اظہار کے لیے ان کی رہائش گاہ تک مارچ کیا۔

منموہن سنگھ نے کانگریس کے سینیئر رہمناؤں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کی اس حمایت سے انتہائی خوشی ہوئی ہے۔

’میں بہت خوش ہوں سونیا گاندھی اور سبھی اعلیٰ رہنما اتحاد کے اظہار کے لیے یہاں آئے۔ ہم سبھی کا یہ عزم ہے کہ اس صورتحال کا ہم پوری طاقت سے مقابلہ کریں گے۔‘

دہلی کی ایک عدالت نے انہیں کوئلہ کانوں کی نیلامی میں بدعنوانی کے ایک معاملے میں ملزم کے طور پر طلب کیا ہے اور انہیں 8 اپریل کو عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے جمعرات کو مارچ کے بعد کہا کہ منموہن سنگھ جیسے ایماندار رہنما کو طلب کیے جانے سے انہیں کافی تکلیف پہنچی ہے۔

’انہیں صرف ملک میں ہی نہیں پوری دنیا میں اپنی ایمانداری کے لیے جانا جاتا ہے۔ ہم یہاں ان کی حمایت میں ان کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے آئے ہیں۔‘

حکمراں جماعت بی جے پی نے کانگریس پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی بدعنوانی کے سبب ہی منموہن سنگھ کو یہ ذلت اٹھانی پڑ رہی ہے۔

پارٹی کے سینیئر رہنا پرکاش جاوڑیکر نے کہا:’اب وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ منموہن سنگھ کے ساتھ ہیں وہ اس وقت ان کے ساتھ کیوں نہیں تھے جب وہ کوئلہ کانوں کی ایمانداری سے نیلامی چاہتے تھے۔‘

کانگریس نے مودی حکومت کی دانستہ خاموشی پر نکتہ چینی کی ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ جب سی بی آئی نے کوئلہ کانوں کے ایک مخصوص کیس میں یہ رپورٹ دی تھی کہ اس معاملے میں کوئی بدعنوانی نہیں پائی گئی ہے تو پھر وہ اس رپورٹ کا اعادہ کیوں نہیں کرتی۔ کانگریس نے کہا ہے کہ وہ منموہن سنگھ پر لگائے گئے الزامات کا پوری شدت سے مقابلہ کرے گی۔

اسی بارے میں