ایران میں ہاشمی رفسنجانی کے بیٹے کو قید کی سزا

Image caption ہاشمی رفسنجانی سنہ 1989 سے لیکر سنہ 1997 تک ایران کے صدر رہے ہیں

ایران کے سابق صدر اور اصلاح پسند رہنما علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو سکیورٹی جرائم اور بدعنوانی کے الزامات میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی ایک عدالت نے سابق صدر کے بیٹے مہدی ہاشمی رفسنجانی کو سزا سنائی۔

مہدی ہاشمی رفسنجانی پر سال 2009 کے صدارتی انتخابات کے بعد بدامنی پھیلانے کا الزام عائد تھا اور انھیں 2012 میں لندن سے جلاوطنی پر واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔

غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق انھیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ایک عدالتی اہلکار کے مطابق مہدی ہاشمی رفسنجانی عدالت کے فیصلے کے خلاف 20 دن کے اندر اپیل کر سکتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مہدی کو سنائی جانے والی سزا میں جرمانہ اور سرکاری عہدہ رکھنے کی ممانعت بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption مہدی ہاشمی کو 2012 میں لندن سے واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا

مہدی ہاشمی رفسنجانی کے خلاف گذشتہ اگست میں انقلابی کورٹ میں عدالتی کارروائی شروع ہوئی تھی۔ یہ عدالت عام طور پر سکیورٹی معاملات سے متعلق جرائم کی سماعت کرتی ہے۔

عدالتی کارروائی بند کمرے میں ہوئی اور اس وجہ سے ان پر عائد کردہ الزامات کے بارے میں زیادہ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔

45 سالہ مہدی کو 2012 میں جلاوطنی سے واپسی پر تہران میں گرفتار کیا گیا تھا اور تین ماہ بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

اس سے پہلے سال 2011 میں علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو بھی ممنوعہ احتجاجی مظاہرے میں شرکت پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ہاشمی رفسنجانی سنہ 1989 سے لیکر سنہ 1997 تک ایران کے صدر رہے ہیں۔

انھیں سال 2013 میں ملک کے آئینی ادارے شورئ نگہبان نے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی تھی۔

اسی بارے میں