’انسانی جان لی تو دو سال مگر گائے کاٹی تو دس سال قید‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

دہلی پولیس راہول کی تلاش میں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ راہل گاندھی کی آنکھوں کا رنگ کیسا ہے۔ ان کی چال ڈھال کیسی ہے، بالوں کا رنگ، قد کاٹھ، چہرہ مہرہ؟ وہ کس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں، یار دوست کون ہیں، کہاں جاتے ہیں اور کیا کرتے ہیں؟ کس طرح کے کپڑے پہننا پسند کرتے ہیں؟

اگر آپ کو معلوم ہو، یا کسی ایسے شخص سے معلوم کر سکیں جس نے راہل کو کبھی دیکھا ہو، تو دہلی پولیس کو ضرور اطلاع کیجیے گا کیونکہ آپ مانیں یا نہ مانیں، پولیس یہ معلومات حاصل کرنے کے لیے خود دہلی میں راہل گاندھی کے گھر گئی تھی۔

اور جب کانگریس نے یہ شور مچایا کہ پولیس راہل گاندھی کی جاسوسی کر رہی ہے تو یہ حیرت انگیز انکشاف کیا گیا کہ نشانے پر صرف راہل ہی نہیں ملک کی پوری اعلیٰ قیادت ہے اور عرصے سے رہی ہے۔ اور اس میں وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امت شاہ، سابق صدر لال کرشن اڈوانی اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھی شامل ہیں۔

آپ شاید سوچیں گے کہ ان معلومات کا پولیس کیا کرے گی لیکن ذرا سوچیے کہ ان رہنماؤں میں سے اگر کوئی کھو جائے، راستہ بھول جائے یا ناراض ہوکر گھر سے چلا جائے تو اسے تلاش کرنا کتنا آسان ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بس ایک آرٹسٹ کو بلانا ہو گا، وہ تلاش گمشدہ کا ایک خاکہ تیار کرے گا، پھر اس کے پوسٹر چھپوا کر جگہ جگہ چسپاں کر دیے جائیں گے اور نقارچی گلی کوچوں میں انعام کا اعلان کرنے کے لیے نکل پڑیں گے۔ جس کسی نے انھیں دیکھا ہو گا وہ پولیس کو اطلاع کرے گا اور وی آئی پی کو اس کے گھر پہنچا دیا جائے گا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں اسے ان معلومات کی ضرورت پڑ سکتی ہے جس کے لیے وہ تیار رہنا چاہتی ہے۔ اگر وہ فیس بک سے ایک فوٹو بھی ڈاؤن لوڈ کر لیتی تو کام تھوڑا اور آسان ہو جاتا اور پھر بھی کام نہ بنتا تو موبائل فون تو ہے ہی، کال کر کے معلوم کر لیتے کہ کہاں ہو؟

اور کانگریس پارٹی کیوں ناراض ہے؟ کیا اس لیے کہ راہل اتنے کم نظر آتے ہیں کہ پارٹی کی قیادت کے پاس ان سوالوں کا جواب نہیں تھا؟

اسے تو اور خوش ہونا چاہیے کہ اس بہانے ہی سہی، کم سے کم راہول گاندھی کا سراغ تو مل جائے گا، وہ کئی ہفتوں سے غائب ہیں اور ابھی تک ان کی گھر واپسی نہیں ہوئی ہے۔

گاؤکشی کے لیے دس سال قید

انڈیا میں گذشتہ کچھ عرصے سے کچھ تنظیمیں یہ طے کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ لوگ کس سے شادی کریں، کتنے بچے پیدا کریں، کس مذہب پر عمل کریں، کیا پہنیں اور اب کیا کھائیں۔

بہت سے لوگ ان کوششوں سے ناراض بھی ہیں لیکن سچ شاید یہ ہے کہ اگر انسان کے لیے تمام فیصلے کر دیے جائیں تو زندگی کتنی آسان ہو جائے۔

گاؤکشی اور گائے کا گوشت کھانے پر تو ملک کے زیادہ تر حصوں میں پہلے سے ہی پابندی عائد ہے، اب مہاراشٹر نے بیل اور بچھڑے کاٹنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔ سزا پانچ سال قید بامشقت۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shilpa Kannan
Image caption ہریانہ میں گائے کاٹنے یا اس کا گوشت کھانے پر دس سال قید کی سزا سنائی جائے گی

بہت سے لوگ کھانے پر جان دیتے ہیں، ان کے لیے پانچ سال قید کیا بڑی بات ہے؟ لیکن اچھا ہو گا کہ وہ شمالی ریاست ہریانہ کا رخ نہ کریں جہاں اب تک یہ تجویز تھی کہ گاؤکشی کے جرم میں قتل کا مقدمہ قائم کیا جائے۔ گائے کے قتل کا نہیں انسان کے قتل کا۔

لیکن تنقید کے بعد ریاست میں بی جے پی کی حکومت اب کچھ نرمی دکھانے پر آمادہ ہوگئی ہے۔ اب گائے کاٹنے یا اس کا گوشت کھانے پر صرف دس سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔

اور سڑک کے حادثے میں کسی انسان کو ہلاک کرنے پر زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا بدستور قائم رہے گی۔

حکومت کے مطابق ہریانہ میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ گائیں ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں اور سب جانتے ہیں کہ انھیں سڑک کے بیچ میں بیٹھ کر وقت گزارنے میں بہت مزا آتا ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو دو سال کی سزا ہوگی یا دس سال کی۔

اس لیے آپ جس سے چاہیں شادی کریں، جتنے چاہیں بچے پیدا کریں، جو دل چاہے وہ کھائیں، جو چاہیں پہنیں، جہاں چاہیں جائیں بس ہریانہ میں گاڑی احتیاط سے چلائیں۔

اسی میں آپ کی بقا ہے۔

اسی بارے میں