برطانوی فوجی ٹرینر یوکرین پہنچ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق برطانوی فوج نے جنوبی یوکرین میں وہاں کی فوج کو تربیت دینے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

یہ برطانوی فوجی جنوبی یوکرین کے شہر مائکولو میں روس حامیوں سے لڑنے والی یوکرینی فوج کو تربیت دے رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق وہ ابھی آئندہ دو ماہ وہیں قیام پذیر رہیں گے۔

برطانوی فوجی مشرقی یوکرین کی فوج کو طبی اور دفاعی حکمت عملی کی تربیت دینے کے علاوہ انہیں غیر مہلک ہتھیار فراہم کریں گے۔

یوکرین کے وزیر اعظم نے برطانیہ کی جانب سے کی جانے والے اس مدد پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ روس نے برطانیہ کی طرف سے یوکرین کی فوج کو تربیت دینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے یوکرین اور برطانیہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا اعلان کیا تھا۔

گزشتہ برس یوکرین اور روس حامی باغیوں کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ کسی مغربی ملک نے اس نوعیت کی طویل المدتی تربیت دینے کا عمل شروع کیا ہے۔

وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اس طرح کی تربیت دینے کا منصوبہ اس لیے ملتوی کردیا کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے روس کو امریکہ اور اس کے درمیان ہونے والے حالیہ امن معاہدے کو ختم کرنے کا جواز مل جائے گا۔

یوکرین اور روس حامی باغیوں کے درمیان بیلاروس میں پندرہ فروری کو جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔

برطانوی حکومت یوکرین کی فوج کو مدد فراہم کرنے کے معاہدے کے تحت اس کی فوج یوکرینی فوج کو ایمرجسنی فرسٹ ایڈ کٹ، سونے کے بستر، رات کے اندھیرے میں دیکھ سکنے والے چشمے بھی فراہم کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں مزید برطانوی ٹیمیں یوکرین پہنچنے والی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار ٹام برج کا کہنا ہے کہ یوکرین میں برطانوی فوجی کا تربیت دینے کی علامتی اہمیت ہے اس سے جنگ کے فوجی توازن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

یوکرین کے وزیر اعظم ارسینی آتسینیک نے برطانوی مدد کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین یورپ کے امن اور استحکام کا دفاع کررہا ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ برطانوی تربیت کار یوکرینی فوج کی قوت کو بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مستقبل میں یورپی یونین کے ممبران ممالک اور امریکہ سے اس طرح کی مدد کی امید رکھتے ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتن کے پریس سیکرٹری دمتری ویسکو نے صحافیوں کو بتایا کہ برطانیہ کی جانب سے فوجیوں کی تعیناتی سے خطے میں کشیدگی کم نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا تھا ’یوکرین میں بیرونی فوجیوں کی موجودگی اس ملک میں کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہوسکتی ہے۔‘

امریکہ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ یوکرین کی فوج کو تربیت دینے کے لیے جلد ہی اپنے فوجی وہاں بھیجے گا۔

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق یوکرین میں گزشتہ اپریل میں شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک چھ ہزار جانیں جا چکی ہیں۔ حالانکہ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے کہیں زيادہ ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں