افغانستان میں’قرآن جلانے‘ والی عورت کی ہلاکت کی تحقیقات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جب خاتون کوگھسیٹ کر باہر لایا جا رہا تھا کچھ لوگوں نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی: بی بی سی نامہ نگار ڈیوڈ لائن

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اُس خاتون کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جس پر مبینہ طور پر مسجد میں اسلام کی مقدس کتاب قرآن کی کاپیاں جلانے کا الزام تھا۔

حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث ہونے کے شک پر چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔

صدر غنی کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔

خاتون کے افرادِ خانہ کا کہنا ہے کہ کچھ سالوں سے ان کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اور انھوں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا تھا۔

اس معاملے میں چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

یہ واقعہ کابل میں پیش آیا تھا جہاں ہجوم اس خاتون کو مسجد سے باہر کھینچ لایا۔ ہجوم نے اسے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا پھر اسے آگ لگا دی۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ لائن کا کہنا ہے کہ جس وقت اس خاتون کو گھسیٹ کر باہر لایا جا رہا تھا اس وقت کچھ لوگوں نے ہجوم کو روکنے کی کوشش کی تھی۔

اس خاتون کو کابل کی ایک مسجد کے باہر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

واقعے کے وقت مختلف فورسز کے فوجی بھی نزدیک ہی تھے۔

کابل کے کرمنل انویسٹی گیشن کمیشن کے سربراہ محمد فرید فاضلی کا کہنا ہے کہ افسران نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔

اب صدر غنی نے علماء کونسل اور وزارتِ داخلہ کے ذریعے اس واقعہ کی تحقحقات کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں