’لوٹ آیا ہوں پھر اس جہنم میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شاعری کے شوقین ایک چھوٹے مجمع کے سامنے شریف سٹیج پر آتے ہیں

اپنے گھروں اور خاندانوں سے دور ایک لاکھ سے زیادہ بنگلہ دیشی سنگا پور میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں۔

ان لوگوں نے اپنے ملک کی بجائے سنگا پور کی تعمیراتی یا بحری جہاز سازی کی صعنت میں اس لیے کام کرنا شروع کیا کہ یہاں زیادہ پیسے کما سکیں۔

لیکن جب یہ مزدور کام نہیں کر رہے ہوتے تو ان میں سے کچھ شعر لکھتے ہیں جن میں ان کی سنگا پور کی زندگی کا ذکر نمایاں ہوتا ہے۔

شاعری کے شوقین ایک چھوٹے اجتماع کے سامنے شریف سٹیج پر آتے ہیں اور جب وہ بنگالی زبان میں بولتے ہیں ان کی آواز میں جذباتیت عیاں ہوتی ہے۔

دل ہے کہ ماتم کناں ہے

اک جنگ ہے جو جاری ہے

اور اس پر میری نہ ختم ہونے والی مصیبتیں

دل کی اتھاہ گہرائی سی نکلی ہوئی چیخ تھی یا دلیری کا فریب

کہ میں لوٹ آیا اس جہنم میں

اک بار پھر خواب پورا کرنے کو

میرا سفر پھر شروع ہوتا ہے

لوگ ان شعروں کو سن کر جھوم جاتے ہیں اور اس آواز کو سنتے ہیں جو سنگا پور کے ادبی مشاغل کے لیے مخصوص مقامات پر عموماً سننے کو نہیں ملتی۔ یہ آواز دیارِغیر سے آئے ہوئے کارکن کی ہے۔

شریف کہتے ہیں کہ’اس نظم میں میں نے اپنا دل کا حال سنا دیا ہے۔ میں نے بتایا ہے کہ بطور کارکن مجھے کس طرح کی مشکلیں جھیلنی پڑتی ہیں۔‘

تعمیراتی کمپنی میں کام کرنے والے حفاظتی امور کے اس سپروائزر نے 2009 میں اپنی بیوی اور بچے کو بنگلہ دیش میں چھوڑ کر سنگا پور کی راہ لی کیونکہ وہ یہاں زیادہ رقم کما سکتے تھے۔

انھوں نے اس جگہ بھرتی کے لیے ہزاروں روپے ایک ایجنٹ کو دیے اور اب دوسرے کارکنں کے ساتھ مل کر رہتے ہیں۔ ایک مہینے میں 15 سو ڈالر کما لیتے ہیں جس میں سے کافی زیادہ رقم گھر بھیجتے ہیں۔

شریف نے شاعری اس لیے لکھنا شروع کی کہ جب وہ یہاں آئے تو ان کے زیادہ دوست نہیں تھے اور زندگی کی یکسانیت نے شاعری میں ان کی مدد کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لٹل انڈیا میں فسادات کے بعد غیر ملکی ورکرز کے بارے میں تاثر اور زیادہ منفی ہوگیا تھا۔

’جب میں پہلی بار یہاں آیا تو مجھے گھٹن محسوس ہوئی۔ سوائے کام کے یہاں کرنے کو کچھ نہیں تھا۔‘ یہی وجہ تھی کہ شریف سنگاپور کے ایک ایک چھوٹے کمیونٹی سینٹر جسے ’لٹل انڈیا‘ کہا جاتا ہے میں چلے آئے۔

اے کے ایم محسن جو بنگلہ زبان کا اخبار ’بانگلر کانتھا‘ چلاتے ہیں، انھوں نے2011 میں یہ سینٹر قائم کیا تا کہ ان کے ملک کے ورکروں کو اپنی مرضی کی جگہ میسر ہو جائے۔ ہر اتوار کو جب ان کی چھٹی ہوتی ہے سارے مزدور یہاں جمع ہو جاتے ہیں، تھیٹر کی مشق کرتے ہیں اور شعر پڑھتے ہیں۔

’میرا ماننا ہے کہ اگر یہ لوگ ثقافتی مشاغل میں مصروف ہیں تو وہ محنت کی کمائی برے کاموں میں نہیں اڑائیں گے مثلاً جوئے میں یا شراب خانوں میں یا عورتوں پر۔‘

محسن نے دوسرے رضاکاروں کی طرح ایسے ہم وطنوں کی حوصلہ افزائی کی ہے جو اس مرکز میں شعر لکھنے آئے اور پھر ان شعروں کو مقابلے کے لیے جمع کرایا۔

’میں سمجھتا ہوں کہ اس سے مقامی افراد کو احساس ہوتا ہے کہ غیر ملکی ورکر صرف مزدور ہی نہیں بلکہ ان میں جذبات اور احساسات ہیں۔‘

23 برس کے سیمئل لی جو سنگا پور کی نیشنل یونیورسٹی میں ادب کے طالب علم ہیں ایسے ہی ایک عوامی مشاعرے میں شریک تھے۔

وہ کہتے ہیں ’میں نے ایسی آوازیں پہلے نہیں سنیں۔ یہ لوگ سنگا پور میں جیسے دیواروں سے لگے ہوئے ہیں۔لیکن جب ان کے تجربات کو لفظ ملتے ہیں تب آپ خود کو ان کی جگہ رکھ کر سوچ سکتے ہیں۔‘

سنگاپور کے رہنے والوں کو یہ شاعری ان ورکروں کی زندگی کی جھلک دکھا رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو یہاں مشکل کام اور ایسے کام کرتے ہیں جو دوسرے نہیں کرتے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم سے منسلک ڈیبی فورڈائز کہتے ہیں کہ سنہ 2013 میں جب سنگا پور کے لوگوں سے باہر کے کارکنوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے یہ چار لفظ بولے: ’غریب، گندے، خطرناک اور لچر‘۔ اسی سال لٹل انڈیا میں فسادات کے بعد (جن میں غیر ملکی کارکن ہی ملوث تھے) ان ورکرز کے بارے میں تاثر اور زیادہ منفی ہوگیا۔

بہت سے کارکنوں کے لیے سب سے مشکل کام اپنے خاندانوں سے دور ہونا ہے۔

شاعری کا مقابلہ جیتے والے ذاکر حسین نے 2003 میں اپنا گھر بار، بیوی بیٹا چھوڑ کر سنگاپور کی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کے لیے سفر اختیار کیا۔

’جب میں کام کرتا ہوں تو انھیں یاد کرتا ہوں۔ جب میں سوتا ہوں تب بھی انھیں یاد کرتا ہوں۔‘

ذاکر حسین کے مطابق شاعری کے مقابلے کے لیے انھوں نے شعر ایک بس پر گھر واپسی کے سفر کے دوران لکھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ذاکر حسین نے 2003 میں اپنا گھر بار، بیوی بیٹا چھوڑ کر سنگاپور کی تعمیراتی کمپنی میں ملازمت کے لیے سفر اختیار کیا۔

’جب میں محنت کرتا ہوں تو پھر مجھے تفریح کی ضرورت پڑتی ہے لہذٰا میں اپنی کتاب سے کچھ نظمیں پڑھتا ہوں۔ میری شاعری میرے دماغ اور میرے دل میں ہے۔‘

ذاکر بنگلہ دیش میں صحافی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ سنگا پور اس لیے آئے کہ ان کے خاندان کے لیے مالی طور پر گزارا کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

ان کی نظموں میں بنگلہ دیش کے ان مقامات کا ذکر ہے جن کی یاد انھیں ستاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہیں جہاں وہ اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ گھنٹوں بیٹھا کرتے تھے۔

ہم ایک ہی زمیں پہ ہیں

پر دائرے جُدا جُدا

تم اُس طرف اور میں اِس طرف

سوائے اک دوسرے کی یاد کے اپنے پاس کچھ نہیں

اس بار لوٹا تو مجھے یاد ہے

میرا دل تیرے آنسوؤں میں ڈُوبا تھا

میں واقعی شعر کہتا ہوں

یا میری نظمیں میرے ساتھ روتی ہیں؟

اسی بارے میں