سامبا میں بھارتی فوج کے کیمپ پر حملہ، دو شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دو روز میں بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر کے سرحدی اضلاع میں مسلسل دوسرا حملہ کیا گیا

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں فوج نے سامبا سیکڑ میں فوجی کیمپ پر حملہ کرنے والے دو شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جموں خطے میں پولیس تھانے پر جمعے کو ہوئے حملہ کے بعد ہفتہ کو حکام نے دعویٰ کیا کہ مسلح افراد نے سنیچر کی علی الصبح سامبا کے میسار علاقے میں ایک فوجی کیمپ پر فائرنگ کی۔

اس کے بعد سکیورٹی فورسز سے تصادم میں دو مسلح حملہ آور مارے گئے تاہم اس تصادم کے حوالے سے کئی حلقوں نے شبہہ کا اظہار کیا۔

پولیس حکام کے مطابق تازہ جھڑپ ہند پاک سرحد کے قریب واقع سامبا قصبے میں واقع بھارتی فوج کی82 آرمرڈ ریجمنٹ کے کیمپ کے باہر ہوئی۔

پولیس کے انسپکٹر جنرل دانش رانا نے بتایا کہ ہفتے کی صبح اس علاقے میں مشتبہ سرگرمی دیکھی گئی تو اس کے بعد فوجی کیمپ کے اُس حصے کا محاصرہ کر لیا گیا جہاں مسلح افراد نے پناہ لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ محاصرے کی جگہ سے فائرنگ بھی ہوئی جس کے بعد فوج اور پولیس نے جوابی کارروائی شروع کی۔

دانش رانا نے پہلے تو مسلح حملہ آوروں کے فوجی چھاونی کے اندر داخل ہونے یا ان کے ساتھ کسی تصادم کی تردید کی لیکن ہفتے کی شام انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس تصادم میں دو مسلح افراد مارے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ فوج کے دو اہلکار بھی معمولی زخمی ہوگئے جبکہ ماتا ویشنودیوی کی یاترا کے لیے جانے والے ایک یاتری کو بھگڈر میں چوٹ آئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کٹھوعہ تھانے پر حملہ کرنے والے مسلح افراد میں سے دو کو کارروائی میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا

اس تصادم پر کئی حلقوں نے شبہہ کا اظہار کیا ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اور کشمیر کی اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنما عمرعبداللہ نےکہا کہ اگر یہ واقعی ایک مسلح تصادم تھا تو حکومت ہند کے لیے لحمہ فکریہ ہے کیونکہ دو روز میں دو اضلاع کی سکیورٹی تنصیبات پر حملے ایک سکیورٹی چیلنج ہے۔

اس دوران بھارت کے وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ سرحدوں کے قریب ایسی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ جمعے کی صبح بھارت اور پاکستان کی سرحد کے قریب واقع کٹھوعہ ضلع میں ایک پولیس سٹیشن پر مسلح افراد نے دھاوا بول دیا جس کے بعد طویل تصادم شروع ہوا۔ پولیس کے مطابق اس تصادم میں تین فورسز اہلکار اور دو مسلح حملہ آّور مارے گئے۔ کسی بھی مسلح گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

سامبا اور کٹھوعہ کے اضلاع پاکستان کے شکرگڑھ سیکڑ کے قریب واقع ہیں۔

سری نگر سے ساڑھے تین سو کلومیٹر دور یہ علاقے گزشتہ کئی برس سے سرحدی کشیدگی اور کراس بارڈر شیلنگ کی وجہ سے متاثر رہے ہیں۔ ان دونوں ہندو اکثریتی اضلاع میں بھارتی فوج کی اہم تنصیبات واقع ہیں۔

کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں یہ اضافہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب بھارت اور پاکستان کے درمیان خارجہ سیکڑیوں کی بات چیت بحال ہوچکی ہے۔جبکہ وزیراعلی مفتی محمد سعید نے بھی علیحدگی پسندوں کے ساتھ اندرونی سطح کے مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں