چین میں جکڑے پیروں کی کہانیاں

Image caption چین میں 1912 میں خواتین کے پاؤں کو باندھنے کی رسم پر پابندی عائد کی گئی تھی

چین میں خواتین کے پاؤں باندھنے کی رسم کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے کئی دہائیاں گزرنے کے بعد برطانیہ سے تعلق رکھنے والی ایک برطانوی فوٹوگرافر کو ایسی خواتین سے ملنے کا موقع ملا جو اس روایت کا شکار ہوئی تھیں۔

برطانوی فوٹوگرافر جو فیررل کے لیے وہ لمحہ قابِل فخر تھا جب سو زی رونگ نے ان کے سامنے اپنے بندھے پاؤں کھول دیے۔

ان کے پیروں کو اس وقت باندھا گیا تھا جب وہ سات سال کی تھیں۔ اب ان کی عمر 75 برس ہے اور ان کا شمار چین میں زندہ رہ جانے والی ان عمر رسیدہ خواتین میں ہوتا ہے جنھوں نے پاؤں جکڑنے کی رسم کو برداشت کیا۔ اس رسم پر 1912 میں پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

جو فیررل نے گذشتہ آٹھ سال میں 50 سے زائد ایسی ہی خواتین سے ملاقات کی۔ وہ بتاتی ہیں کہ فخر اور اختیار کی کہانیاں بہت حیران کن تھیں۔

اسی موضوع پر ان کی کتاب کی رونمائی آئندہ منگل کو ہانگ کانگ میں برٹش کاؤنسل میں ہو گی۔

بچیوں کے پیروں کو باندھنے کے بارے میں چین کے لوگوں کا خیال تھا کہ اس سے پاؤں زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں اور خواتین میں تابعداری بھی پیدا ہوتی ہے۔

1912 میں اس رواج پر پابندی کے باوجود چین میں 1949 کےثقاقتی انقلاب تک بہت سے دیہی علاقوں میں یہ عمل جاری رہا۔

شان ڈونگ اور یونّان نامی صوبے میں سفر کے فیرل کو ایسی بہت سے ضعیف خواتین ملیں جنھوں نے خوشی خوشی اپنے پاؤں دکھائے جنھیں سالہاسال تک جکڑ کر رکھا گیا تھا۔

فیرل کہتی ہیں کہ انھوں نے محسوس کیا کہ بہت سے لوگ اسے وحشیانہ اور جاہلانہ روایت کہتے ہیں تاہم یہ ایک ایسی رسم بھی تھی جس نے ’خواتین کو بااختیار‘ بھی بنایا۔

’اس نے انھیں بہتر زندگی دی، وہ خود اپنے لیے اچھا کر رہے تھے۔‘

کیونکہ اس وقت کی جاگیردارانہ روایات میں بڑے پاؤں والی خواتین کے ساتھ شادی کرنے کو پسند نہیں کیا جاتا تھا۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فیرل نے کہا کہ رشتہ کروانے والے ایسی عورت کا انتخاب کرتے تھے جس کے پاؤں بندھے ہوئے ہوں کیونکہ اسے بطور ثبوت لیا جاتا تھا کہ وہ درد برداشت کر سکتی ہے اور ’بطور بیوی شکایت نہیں کرےگی۔‘

وہ سمجھتی ہیں کہ اہم بات یہ ہے کہ بندھے پیروں والی عورتوں کے لیے جو کچھ ان کے ساتھ ہوا وہ ان کے لیے باعث فخر ہے۔

Image caption سو زی رونگ اپنے گاوں میں خوبصورت ترین پاؤں کی حامل خاتون سمجھی جاتی ہیں

سو زی رونگ نے اپنے بچن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ان کی دادی اماں انھیں پکڑ لیتی تھیں اور بطور سزا ان کے پیروں کے گرد بندھی پٹیاں اتار دیتی تھیں اور ان کے پاؤں کے گوشت کے قتلے کاٹتی تھیں۔

لیکن جب فیرل کیمرہ لے کر آئی تو سو زی رونگ نے بڑے فخریہ انداز میں تصاویر کھنچوائیں۔

’وہ مجھے اپنے پاؤں دکھاتے ہوئے بہت خوش تھیں کیونکہ وہ گاؤں میں خوبصورت ترین پاؤں کی مالک خاتون سمجھی جاتی ہیں۔‘

فیرل نے جن عورتوں کی تصاویر بنائی تھیں ان میں سے اکثر 80 یا 90 سال کی عمر کے درمیان ہیں اور چند ایسی بھی ہیں جو وفات پا چکی ہیں۔

فیرل کے لیے یہ بات انتہائی حیرت کا باعث تھی کہ پابندی نہ ہونے کے باوجود عکس بندی کرتے ہوئے انھیں 40 فیصد ایسی خواتین ملیں جنھوں نے خود اپنے پیروں کو جکڑا تھا۔

کچھ نے کہا کہ وہ بھی دیگر لڑکیوں جیسا دِکھنا چاہتی تھیں اور چند نے کہا کہ وہ جانتی تھیں کہ یہ کیسے کرنا ہے کیونکہ انھوں نے اپنی والدہ کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاؤں میں موجود چھوٹی چھوٹی ہڈیاں وزن پڑنے کے بعد ٹوٹ جاتیں اور پاؤں کا محراب اٹھ جاتا اور پاؤں کی ایڑی پشت کی ہڈی کو چھونے لگتی۔

جو کہتی ہیں کہ اس روایت پر وہ خواتین ناراض ہوتی تھیں جنھیں کھیتوں میں جا کر کام کرنا ہوتا تھا کیونکہ اگر ان کے پیر جکڑے ہوئے نہ ہوتے تو وہ اپنا کام زیادہ آسانی سے کر سکتی تھیں۔

بہت سی ایسی خواتین بھی تھیں جنھوں نے یہ راز بتایا کہ انھوں نے اپنے پیروں کو نہیں باندھا تھا کیونکہ پھر انھیں بھی ایسے ہی وقت سے گزرنا پڑتا۔

1949 میں جب چین میں کمیونسٹ پارٹی اقتدار میں آئی عورتوں کو لگا کہ ان کے پاؤں جو کہ سلطنت کی حساسیت کی پیداوار تھے اب وہ نفرت اور تضحیک کا نشانہ بن گئے ہیں۔

لیکن ان عورتوں کی زندگی میں بہت مشکل مراحل سے گزری۔ ابتدا میں جن پیروں کی وجہ سے ان کی تعریف ہوتی تھی 1949 کے بعد وہ ان کے لیے شرم کا باعث بن گئے ایک ایسی چیز جس پر انھیں احساسِ جرم ہونے لگا۔

ایک ہی انسان کے لیے اپنی زندگی میں کسی ایک ہی چیز کی وجہ مختلف احساسات کا شکار ہونا حیرت انگیز ہے۔

آج وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ وہ جو بوڑھی عورتیں انھیں ملیں وہ ان کی چستی اور متحرک زندگی پر حیران تھیں۔

ژانگ یون ینگ وہ پہلی خاتون تھیں فیررل نےجن کے پیروں کی عکس بندی کی۔

وہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کی والدہ تھیں۔ فیرل نے انھیں گلی میں اپنی ایڑیوں پر چلتے ہوئے دیکھا تو ٹیکسی ڈرائیور کو رکنے کو کہا۔

ژانگ یون ینگ کے خاندان میں موجود نوجوانوں میں کسی نے کبھی بھی ان سے نہ تو بندھے پیروں کے بارے میں سوال کیا اور نہ ہی کبھی ان کے ننگے پاؤں دیکھے۔

Image caption کاؤ میے کے ساتھ جو فیرل کی یادگار ملاقات

فیرل کہتی ہیں کہ چین میں چند نوجوان چین کی منفی جھلک دکھانے کے حق میں نہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا ایک مشکل پروجیکٹ تھا جس سے انھیں بڑی عمر کے افراد کی زندگی کے بارے میں بہت کچھ جاننے کو ملااور یہ بھی کہ خواتین جو دیکھنے میں تو پوشیدہ ہیں لیکن جب کوئی ان کی کہانی جاننے کی کوشش کرتا ہے تو اکثر وہ اس اقدام کو پسند کرتی ہیں۔

87 سالہ کاؤ میے یینگ کی وفات 2013 میں ہوئی۔

فیرل کے لیے وہ سب سے خاص تھی ملاقات کرنے پر انھوں نے فیرل کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ فیرل کی مترجم نے انھیں بتایا کہ کاؤو چاہتی ہیں کہ آپ مت جائیں۔

اسی بارے میں