فرخندہ کے مارے جانے کے بعد مظاہروں میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر فرخندہ کے خون سے بھرے چہرے کی تصاویر بنی ہوئی تھیں جبکہ کچھ نے اپنے چہروں کو سرخ رنگا ہوا تھا

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں قرآن کی بے حرمتی کے بظاہر جھوٹے الزام میں ہجوم کے ہاتھوں خاتون کے مارے جانے پر مظاہروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

28 سالہ فرخندہ جنھیں گزشتہ ہفتے مارا گیا تھا کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے والے تقریباً دو ہزار افراد نے مظاہرہ کیا۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب کابل پولیس کے ترجمان کو فیس بک پر فرخندہ کے مارے جانے کی حمایت کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق اس معاملے سے متعلق 19 افراد کو حراست میں لیاگیا ہے۔

مظاہرین نے قتبے اٹھا رکھے تھے جن پر فرخندہ کے خون سے بھرے چہرے کی تصاویر بنی ہوئی تھیں جبکہ کچھ نے اپنے چہروں کو سرخ رنگا ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے مظاہرین میں سے ایک شخص حبیب یار کا کہنا تھا ’ یہ انسانیت کی تاریخ میں سب سے ذیادہ ظالمانہ عمل ہے۔ سینکڑوں لوگوں نے اس واقع کو دیکھا پولیس اہلکار وہاں موجود تھے لیکن بد قسمتی سے کسی نے انھیں بچانے کی کوشش نہیں کی۔سب ویڈیو بنا رہے تھے۔‘

مظاہرہ کرنے والے ہجوم میں موجود افغان وومن کونسل کی سربراہ فتانہ گیلانی کا کہنا تھا ’ ہم اس سب سے تنگ آچکے ہیں۔نئی نسل سوائے جنگ کے اور کچھ نہیں جانتی۔ وہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں اور اب ان کے پاس ملازمت بھی نہیں ہے‘

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ کابل پولیس کے ترجمان حشمت ستنکزئی کو فیس بک پر فرخندہ کے مارے جانے کی حمایت کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل 13 دوسرے پولیس اہلکاروں کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے اور ان سے اس واقع کے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

فرخندہ کے خاندان والے اس واقعہ میں پولیس کو وہاں موجود ہونے اور کچھ نہ کرنے پر قصور وار ٹھرا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ایک مولوی سے بحث کرنے کے بعد ان پر قران کو نذرِ آتش کرنے کا بظاہر جھوٹا الزام لگایاگیا تھا۔ جس کے بعد ان پر ہجوم کی شکل میں لوگوں نے حملہ کر کے انھیں مار دیا تھا۔

اسی بارے میں