’مجھے گولی مار کر نہر میں پھینک دیا‘

Image caption بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش میں 28 سال قبل ہونے والے فسادات کے متاثرین کو انصاف کی امید ہے

1987 میں بھارتی ریاست اترپردیش کے میرٹھ ضلعے کے مسلم اکثریت والے علاقے ہاشم پورہ میں 40 سے زیادہ لوگوں کے قتل کے ملزمان اتر پردیش کی پرووینشيل آرمڈ كانسٹیبلري (پی اے سی) کے 16 جوانوں کو دہلی کی ایک ذیلی عدالت نے شواہد کی عدم موجودگی میں بری کر دیا ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ 21 مارچ کو دیا تھا۔ عدالت کے فیصلے سے اس بہیمانہ واقعے کے گواہان اور متاثرہ خاندان مایوس ہیں لیکن انھیں اعلیٰ عدالت سے انصاف کی امید ہے۔

بی بی سی کے نمائندے سلمان راوی نے اس واقعے کے شکار محمد عثمان سے بات کی جنھیں دو گولیاں لگی تھیں۔

محمد عثمان کی آپ بیتی

ہم گھر پر تھے۔ ہمارے والد صاحب بھی بیٹھے تھے۔ وہ تلاشی کے بہانے آئے اور ہمیں گھر سے باہر لائے۔ ہمارے ہاتھ اوپر اٹھوا كر وہ پھر ہمیں سڑک پر لے گئے۔

سڑک پر لا کر ہمیں پی اے سی کے حوالے کر دیا گیا۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں بہت سارے لوگ پہلے سے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ سہ پہر کے قریب تین چار بجے کا وقت رہا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption محمد عثمان اپنی پیٹھ پر گولی کا زخم دکھاتے ہوئے

شام کے وقت سب کو ٹرکوں میں بھر بھر کے سول لائنز تھانے بھیجا گیا۔ پھر اس کے بعد تقریباً 50 مردوں کو چھانٹ کر علیحدہ کر لیا گیا۔

عورتوں اور بچوں کو ایک طرف کر دیا گیا۔ عورتوں اور بچوں کو چھوڑنے کا حکم دے دیا گیا تھا اور ہمیں ایک طرف کھڑا کر دیا گیا۔

پھر پی اے سی کا ایک ٹرک منگوايا گیا۔ مغرب کے بعد ہمیں ٹرک میں سوار کرا دیا گیا۔ ہمیں نیچے بٹھایا گیا جبکہ پی اے سی کے جوان کھڑے ہوئے تھے۔

ٹرک چل پڑا۔ ہمیں پتہ نہیں چل پا رہا تھا کہ ٹرک کہاں جا رہا ہے۔ جب ٹرک نے پل پار کیا تب پتہ چلا کہ یہ مراد نگر کی گنگ نہر ہے۔

پل پار کر کے ٹرک آگے بڑھتا رہا۔ پیچھے سے ایک اور گاڑی آ رہی تھی۔ اسے آگے جانے دیا گیا۔

پھر جس ٹرک پر ہمیں رکھا گیا تھا اسے ایک درخت کے نیچے روکا۔ پھر پی اے سی والے نیچے اترے۔ پہلے انھوں نے ہم میں سے ایک کو نیچے اتارا اور اسے گولی مار دی۔ پھر اور گولیاں چلانی شروع کر دیں۔

Image caption عدالت کے فیصلے سے اس بہیمانہ واقعے کے گواہان اور متاثرہ خاندان مایوس ہیں لیکن انھیں اب بھی اعلیٰ عدالت سے انصاف کی امید ہے

ہم نے سوچا کہ اب یہ سب کو مار دیں گے۔ تب آپس میں ہم نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ اور ٹرک سے کود جاؤ ورنہ یہ سب کو مار دیں گے۔ سب ٹرک میں کھڑے ہو گئے تو انھوں نے ٹرک پر گولی چلا دی۔

گولیاں بہت سے لوگوں کو چیرتی ہوئی پار ہو گئیں۔ مگر میں بچ گیا تھا۔ مجھے ٹرک کے اوپر سے اتارا گیا. ایک پی اے سی والے نے مجھے اتارا۔

دو نے مجھے پکڑا اور تیسرے نے مجھے گولی ماری۔ پہلی گولی میرے پیٹ کے آگے لگی اور پیچھے کی طرف سے نکل گئی۔ میں ’ہائے اللہ، میں مر گیا‘ کہتے ہوئے نیچے گر گیا۔

پھر انھوں نے کہا: ’اسے پانی میں پھینک دو۔‘ پھر ایک نے ہاتھ پکڑے، ایک نے پیر پکڑے اور مجھے نہر میں پھینک دیا۔

نہر میں پھینکتے وقت بھی گولی چلائی۔ گولی میری ٹانگ پر لگی۔ میں نے تیرنے کی کوشش کی مگر مجھ سے تیرا نہیں گیا۔ کسی طرح پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتا گیا۔

کچھ دور جاکر میں نے کنارے کی ایک جھاڑی کو پکڑ لیا مگر گولیوں کی آوازیں آتی رہیں۔ جن لوگوں کو وہ پانی میں پھینک رہے تھے ان کی بھی آوازیں آ رہی تھیں۔

ایسا لگ رہا تھا گویا کوئی پانی میں اینٹیں پھینک رہا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بھارت میں پولیس پر تعصب برتنے کا الزام لگایا جاتا ہے

جب وہاں سناٹا چھاگیا تو میں پیٹ کے بل اوپر چڑھا۔ میں نے دیکھا وہاں میرے ایک جاننے والے باب الدين اور مجیب الرحمٰن پڑے ہوئے تھے۔

پھر ہم نے وہاں دو ساتھیوں کو اور دیکھا جو ہمارے ساتھ ٹرک میں تھے۔ ہم وہاں پڑے تھے اس امید میں کہ آس پاس کے گاؤں کا کوئی آئے اور ہمیں لے جائے۔

مگر پھر ایک روشنی نظر آئی۔ یہ موٹرسائیکل تھی جس پر ایک داروغہ سوار تھا۔

داروغہ کے پیچھے ایک اور آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ انھوں نے میرے پاس گاڑی روکی اور کہا، ’کیا ہے بے؟‘

میں نے انھیں بتایا کہ ہمیں پی اے سی والوں نے گولی مار کر پھینک دیا ہے۔ پھر اپنے پیچھے بیٹھے آدمی کو میرے پاس چھوڑ کر داروغہ نے کہا، ’بیٹے میں گاڑی لے کر آ رہا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گذشتہ سال اترپردیش کے مظفر نگر ضلعے میں بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے

پھر وہ گاڑی لے کر آیا اور میرے ساتھ پڑے دو لوگوں کو گاڑی میں ڈالا جو بےہوش تھے۔ میں ہوش میں تھا۔ پھر داروغہ نے مجھ سے کہا: ’بیٹے میں تمہیں ہسپتال لے جا رہا ہوں۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ میں پی اے سی کا نام نہ لوں ورنہ ہمیں زہر کا انجیکشن لگا دیا جائے گا۔ مجھ سے کہا گیا کہ میں کہوں کہ مجھے بلوے میں گولی لگی ہے اور پولیس نے مجھے بچایا ہے۔

بعد میں مجھے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرایا گیا۔ ہم 28 سالوں تک انصاف ملنے کی امید کے سہارے جیتے رہے۔ اب اعلیٰ عدالتیں ہیں۔ ہمیں اب بھی انصاف کی امید ہے۔

اسی بارے میں