بھارت: گائے پر پابندی، شیر چيتے مرغی کھانے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ DEVI DAS DESHPANDE
Image caption راجیو گاندھی زولوجیکل پارک اور جنگلی حیاتیات کے تحقیقی مرکز میں دو شیر، دو چیتے اور بڑی تعداد میں مگر مچھ، ریچھ، سیار اور دیگر گوشت خور جانور ہیں

بھارتی ریاست مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحے پر پابندی عائد کرنے کے بعد سے چڑیا گھروں میں بند جانوروں کو مرغی اور بھینس کےگوشت پرگزارا کرنا پڑ رہا ہے۔

تاہم اس تبدیلی سےان جانوروں پر مرتب ہونے والے اثرات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

اس کا کا آغاز ممبئی کے ’سنجے گاندھی نیشنل پارک‘ سے ہوا اور اب دیگر شہروں کے چڑیا گھروں میں بھی ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔

پُونے کے ’راجیو گاندھی زولوجیکل پارک‘ اور جنگلی حیاتیات کے تحقیقی مرکز میں دو شیر، دو چیتے اور بڑی تعداد میں مگرمچھ، ریچھ اور دیگر گوشت خور جانور ہیں۔

چڑیا گھر کے ایس پی راجکمار جادھو نے بتایا کہ ’گائے کے گوشت پر پابندی ہے لیکن باقی جانوروں کے گوشت کی اجازت ہے۔ بِیف پر پابندی لگنے کے بعد ہم نے جانوروں کو بھینسوں کا گوشت دینا شروع کر دیا ہے۔‘

راجکمار کا مزید کہنا تھا کہ ’اس کے لیے سالانہ ٹینڈر نکالا جاتا ہے اس لیے ہم پر کوئی مالی فرق نہیں پڑا، لیکن چونکہ بھینس کا گوشت زیادہ مقدار میں دستیاب نہیں ہوتا اس لیے ہم اس میں چکن ملا کر انہیں کھلاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’اس پابندی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ گایوں کی غیر قانونی نقل و حمل کم ہوجائےگی‘

شعلہ پور شہر کے ’مہاتما گاندھی چڑیا گھر‘ میں گوشت خور جانوروں کو پہلے بیف دیا جا رہا تھا لیکن اب انھیں مرغی کا گوشت دیا جا رہا ہے۔ یہاں ایک شیر، چار چیتے اور 17 مگرمچھ ہیں۔

اورنگ آباد کے سدھارتھ چڑیاگھر کے انچارج ڈاکٹر بي ایس نائیكواڈے کے مطابق ’یہاں 24 گوشت خور جانور ہیں جن کے لیے ہر روز 165 سے 170 کلو بیف کی ضرورت پڑتی تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ اب بھینس کےگوشت کی قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کا خرچ دوگنا ہوگیا ہے۔

پُونے میں ’وائلڈ لائف ریسرچ اینڈ كنزرویشن سوسائٹی‘ کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر جینت کلکرنی کا کہنا ہے کہ شیر جیسے جانوروں کو چکن کھلانے سے فوری طور پر تو نہیں لیکن دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

کلکرنی کا کہنا تھا کہ پولٹری فارم میں ان پرندوں کو کافی مقدار میں اینٹی بائيوٹك ادویات دی جاتی ہیں جو انھیں کھانے والے جانوروں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ جنگلی جانوروں کے کھانے میں جو تنوع ہونا چاہئے وہ بھی اب نہیں رہےگا۔

پونے کے قریب مانکڈوہ گاؤں میں تیندوؤں کی نقل مکانی پر نظر رکھنے کے لیے ایک مرکز میں اس وقت 27 چیتے ہیں۔

اس مرکز کے سربراہ اور جانوروں سے متعلق ڈاکٹر اجے دیشمکھ کہتے ہیں کہ ’اب ہمیں بھینسوں کے گوشت سے گزارا کرنا پڑ رہا ہے لیکن بیف پر پابندی کے سبب بھینس کے گوشت کی قیمت بھی تقریبا دوگنا بڑھ گئی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ devi das deshpande
Image caption بڑے جانوروں کو گائے یا بھینس کے گوشت سے جو کیلشیئم اور فاسفورس کی بڑی مقدار ملتی ہے وہ چکن یا کسی پرندے کے گوشت سے نہیں مل سکتی

اجے دیشمکھ نے مزید بتایا کہ’دیہی علاقوں میں بھینس کا گوشت فروخت کرنے والے ٹھیکیدار بھی کم ہیں۔ اس لیے ہمیں ہر دوسرے دن گوشت کی کمی محسوس ہوتی ہے۔‘

ڈاکٹر دیشمکھ کہتے ہیں کہ چکن کا گوشت کھلانے سے جانوروں کی پرورش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ’بڑے جانوروں کو گائے یا بھینس کے گوشت سے جو کیلشیئم اور فاسفورس کی بڑی مقدار ملتی ہے وہ چکن یا کسی پرندے کے گوشت سے نہیں مل سکتی۔‘

تاہم پونے میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’پیپلز فار اینیملز‘ کے سربراہ منوج اوسوال کے کا کہنا ہے کہ چونکہ جانور جنگل میں ہر طرح کی مخلوق کو شکار کر کے کھاتے ہیں اس لیے ایک جانور کی بجائے دوسرے جانور کا گوشت دینے سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

گائے کے ذبیحے پر پابندی کے بارے میں ان کا کہنا تھا’ اس پابندی سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ گایوں کی غیر قانونی نقل و حمل کم ہوجائےگی۔‘

اسی بارے میں