’گو ونش کے قانون سے مہاراشٹر میں لاکھوں متاثر‘

Image caption بھارت میں پہلے سے ہی بیشتر ریاستوں میں گو کشی پر پابندی عائد ہے لیکن اب مہاراشٹر میں بیل اور بچھڑے کے ذبیحے پر بھی پابندی لگائی گئی ہے

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر کی حکومت کے گو ونش (گائے کی نسل کے کسی جانور) کے ذبیحے پر پابندی والے قانون کے نفاذ سے اس کاروبار سے وابستہ لاکھوں لوگوں کا کاروبار بحران کا شکار ہو گیا ہے۔

ریاست میں گائے ذبح کیے جانے پر پہلے سے پابندی تھی تاہم اب بیل یا بچھڑے ذبح کرنے پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔

ان میں بڑے جانوروں کے گوشت کا کاروبار کرنے والے، اس گوشت سے بنے پکوان فراہم کرنے والے ہوٹل اور ریستوران، چمڑے کی اشیاء کے تاجروں کے علاوہ لاکھوں قصاب بھی شامل ہیں۔

مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے دھاراوي علاقے میں چمڑے کا کاروبار بڑے پیمانے پر ہوتا ہے۔ یہاں خالص چمڑے سے بنی بیلٹ، لیڈیز بیگ اور پرس جیسی دیگر چیزیں ملتی ہیں۔

دھاراوي میں چمڑے کی اشیاء کا کاروبار کرنے والے اسلم شیخ (بدلا ہوا نام) کہتے ہیں ’ہمارے بازار کی زیادہ تر چیزیں بیل کے چمڑے سے بنتی ہیں۔ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد ہمارا سارا کاروبار ہی بند ہو جائے گا۔‘

دھاراوي کے چرمی تاجروں کو تشویش ہے کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد ان کے لیے فاقہ کشی کی نوبت آ جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBCPERSIAN.COM
Image caption چمڑے کے کاروبار پر بھی اس کے نمایاں اثرات کی بات کی جاتی ہے

نام نہ بتانے کی شرط پر ایک تاجر نے کہا: ’ہم پشتوں سے یہ کاروبار کر رہے ہیں۔ اب اچانک یہ کام چھوڑ کر ہم دوسرا کام بھی شروع نہیں کر سکتے۔ ہمارا جمع جمایا کاروبار مٹی میں مل جائے گا اور ہم سڑک پر آ جائیں گے۔‘

ممبئی سبربن بیف ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد علی قریشی کے مطابق کولکتہ اور چنئی کے چمڑے کے کارخانوں کو جانوروں کی کھال کی فراہمی ممبئی اور مہاراشٹر سے ہوتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ دیونار کے مذبح خانے سے ایک دن میں تقریبا 450 كھالیں ان شہروں میں بھیجی جاتی ہیں۔ ایک کھال کی قیمت تقریبا 1،500 روپے ہوتی ہے۔

چونکہ اب مہاراشٹر میں بیل کے ذبیحے پر پابندی لگی ہے، یہ قیمت اب 2،000 سے بھی زیادہ ہوگی۔

قریشی کہتے ہیں: ’اب اس چمڑے کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے یہاں کاروبار پر برا اثر پڑے گا۔ دیونار بوچڑخانے میں سال بھر میں تقریبا 24 کروڑ روپے کی کھال کی تجارت ہوتی ہے۔ اب یہ سب بند ہو جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ممبئی میں کئی ریستوراں بیف کے لیے بہت معروف ہیں

قریشی کے مطابق صرف ممبئی میں ہر روز تقریبا 30 لاکھ روپے کا بیل کا گوشت فروخت ہوتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’دیونار بوچڑخانے میں ذبح کیے جانے والے 450 جانوروں کے علاوہ اتنے ہی جانور غیرقانوني طور پر روز ممبئی میں آتے ہیں، جن کا گوشت شہر کے ہر اس ہوٹل میں جاتا ہے جہاں لوگ بیف کھانے آتے ہیں۔

’مجموعی طور چمڑے اور گوشت کا سالانہ 1.5 ارب روپے کا کاروبار اب ٹھپ ہو جائے گا۔ ہوٹلوں کے علاوہ بیل کا گوشت ممبئی کے بھائیکلا زو (چڑیا گھر) اور سنجے گاندھی نیشنل پارک میں جانوروں کو کھلانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔‘

قریشی کہتے ہیں ’ایک بیل کے گوشت کی اوسط قیمت تین ہزار روپے ہوتی ہے۔ ممبئی شہر میں اور آس پاس کے علاقوں میں ایک دن میں اوسطا ایک ہزار بیل ذبح کیے جاتے ہیں جن کا سارا گوشت ممبئی کے مختلف ہوٹلوں میں بھیجا جاتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’چونکہ یورپ اور امریکہ میں مٹن اور چکن کے مقابلے بیف مہنگا ہے جبکہ اس کے برعکس ہندوستان میں یہ سستا ہے اس لیے ممبئی آنے والے تقریبا سارے غیر ملکی سیاح بیف کھانا پسند کرتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ STALIC.LIVEJOURNAL.COM
Image caption ایک شیف کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے کہ کہیں ان کی نوکری نہ چلی جائے کیونکہ بیف پر مبنی ان کے کباب بہت پسند کیے جاتے تھے

گوونش کشی قانون سے ممبئی کے ہوٹل اور ریستوران مالکان بھی ناراضں ہیں، خاص طور وہ جو بیف سے بنی اشیاء کے لیے معروف ہیں۔

ممبئی کے قلابہ علاقے میں اس طرح کے بہت سے ہوٹل اور ریستوراں ہیں۔

انھی میں سے ایک کیفے موڑیگر ہے جو بیف کے پکوان پسند کرنے والوں میں یہ ریستوران بہت مقبول ہے۔

ریستوران کے منتظم جوزف مكاڑو کا کہنا ہے کہ اس قانون کے بعد ان کے ریستوران کا تقریبا 30 سے 40 فیصد کاروبار ختم ہو جائے گا اور یہی نہیں بیف کا کاروبار بھی70 فیصد تک کم ہو جائے گا۔

بیف تاجر تنظیم کے صدر محمد علی قریشی کے مطابق اس قانون کی وجہ سے بھینس کے گوشت اور چکن اور مٹن کی قیمتوں میں اضافہ ہو جائے گا۔

جوزف مكاڑو نے کہا: ’بیف ہمارے یورپی اور مہاجر بھارتی گاہکوں کی پہلی پسند ہے۔ ہم تمام لوگوں کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں اور کسی کو کوئی ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتے لیکن جو لوگ بیف کھانا چاہتے ہیں انھیں اس سے محروم رکھنا ٹھیک نہیں ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FOTOMM
Image caption عام طور پر ایک جانور کے کھال کی قیمت 1500 روپے آتی ہے

ایک دوسرے ریستوران کے شیف نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا: ’یہ قانون ہمیں بری طرح متاثر کرے گا۔ میری تو شاید نوکری بھی نہ رہے۔ اگر بیف کے کھانے نہیں بنیں گے تو میں کروں گا کیا؟ میرے ہاتھ کے بنے بیف سٹیک اور بیف برگر لوگوں کو کافی پسند ہیں۔

اس کے علاوہ مہاراشٹر میں تقریبا ڈیڑھ کروڑ قصاب ہیں جانوروں کو ذبح کرنے کا کام کرتے ہیں۔

محمد قریشی کہتے ہیں: ’یہ معاشرہ کم پڑھا لکھا ہے اور بے حد غریب ہے۔ یہ لوگ جانور کاٹنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کر سکتے۔ اس قانون کے بعد راتوں رات ان کی روزی روٹی چھن گئی ہے۔

اس کے تاجر تو کسی طرح دوسرے کسی کام سے اپنا گزارہ کر لیں گے لیکن قصابوں کے لیے جینے مرنے کا سوال ہے۔

اسی بارے میں