بابری مسجد مقدمے میں اڈوانی سمیت 20 افراد کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ agency
Image caption لال کرشن اڈوانی کی تحریک کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے چھ دسمبر سنہ 1992 کو تاریخی بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا

بھارت کی عدالت عظمیٰ نے تاریخی بابری مسجد منہدم کیے جانے والے دیرینہ معاملے میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینیئر رہنماؤں لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سمیت 20 افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

جن لوگوں کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، ان میں پارٹی کے معروف رہنما کلیان سنگھ اور اوما بھارتی بھی شامل ہیں۔

کلیان سنگھ فی الوقت شمالی ریاست ہماچل پردیش کے گورنر ہیں اور اوما بھارتی مرکزی وزیر ہیں۔

چھ دسمبر سنہ 1992 کو انتہاپسند رجحان رکھنے والے ہندوؤں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا جس کے بعد ملک کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ ہندو مسلم فسادات بھڑک اٹھے تھے اور درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کرتے ہوئے تازہ نوٹس جاری کیے۔

یہ اپیل حاجی محمود نامی شخص نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی تھی جس میں بابری مسجد منہدم کیے جانے کے معاملے میں مذکورہ افراد کے خلاف سازش کا الزام ہٹا دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اس سے قبل بابری مسجد پر آنے والے ہائی کورٹ کے فیصلے میں بی جے پی کے بیشتر سرکردہ رہنماؤں کو الزام سے بری کر دیا گیا تھا

چیف جسٹس ایچ ایل دتّو اور جسٹس ارون مشرا پر مشتممل بینچ نے نوٹس کا جواب دینے کے لیے سی بی آئی اور دیگر لوگوں کو چار ہفتے کا وقت دیا ہے۔

بابری مسجد سنہ 1528 میں مغل بادشاہ بابر کے دور میں تعمیر ہوئی تھی۔ ہندوؤں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر پہلے رام مندر تھا اور یہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

مؤرخین کے مطابق مندر مسجد کے تنازع نے پہلی مرتبہ سنہ 1853 میں تشدد کی شکل اختیار کی اور چھ سال بعد 1859 میں برطانوی حکمرانوں نے ایک باڑ تعمیر کرا کر مسجد کے اندرونی احاطے میں مسلمانوں کو اور باہر کے احاطے میں ہندؤں کو عبادت کی اجازت دی تھی۔

سنہ 1980 کی دہائی میں اس تنازعہ نے سیاسی شکل اختیار کی تھی۔

ہندوؤں نے سنہ 1984 میں وشو ہندو پریشد کے پرچم تلے اس رام جنم بھومی کو بقول ان کے آزاد کرانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی اور بعد میں اس تحریک کی قیادت بی جے پی کے سربراہ لال کرشن اڈوانی نے سنبھال لی تھی۔

اسی بارے میں