’عملی سیاست اور آئیڈلزم کی کشمکش‘

اروند کیجریوال، پرشانت بھوشن، اور یوگندر یادو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پرشانت بھوش اور یوگندر یادو پارٹی کےبانیوں میں شامل تھے

سنہ 2012 میں جب سابق انکم ٹیکس افسر اور سماجی کارکن اروند کیجریوال نے اپنی جماعت ’عام آدمی پارٹی‘ کا اعلان کیا اور انڈیا کے عوام کو یہ بتایا کہ یہ پارٹی ملک کے ہر عام آدمی کی پارٹی ہے جس میں جو بھی فیصلے کیے جائیں گے ان میں عوام کی شمولیت ہوگی اور ملک کے عوام خاص طور سے غریب عوام کے مسائل کو ترجیج دی جائے گی تو سب کو امید کی کرن نظر آئی۔

ایک ایسے وقت میں جب عوام موروثی سیاست سے تنگ آ چکی تھی اور بدعنوانی اپنے عروج پر تھی اروند کیجریوال نے یہ امید جگائی کہ سیاست اب صرف بند کمروں کا کھیل نہیں ہے اور اس میں ہر شخص کا حصہ ہوگا۔

اروند کیجریوال کی قیادت والی اس پارٹی میں جو لوگ شامل ہوئے، جنہوں نے پارٹی کی بنیادی اصول طے کیے ان میں بہت سے باوقار صحافی، پروفیسر اور قانون داں شامل تھے۔ ان میں سب سے نمایاں نام الیکشن کے اعدوشمار کے ماہر پروفیسر یوگندر یادو اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوش کا تھا۔

پارٹی کو وجود میں آئے ابھی مشکل سے تین سال ہوئے ہیں۔ ان تین برسوں میں عام آدمی پارٹی نے دو بار دلی میں جیت حاصل کی۔ سنہ 2014 کے پارلیمانی انتخابات میں چار سیٹیں حاصل کی اور اپنے دو بے حد اہم سینیئر کارکنان کو کھو دیا ہے۔

یوگندر یادو اور پرشانب بھوشن نے دلی انتخابات کے فوراً بعد اس طرح کے الزام عائد کیے کہ پارٹی میں بعض ایسے فیصلے کیےگئے جو پارٹی کے بنیادی اصولوں کے تھے۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ پارٹی کی اندرونی جمہوریت، احتساب کی پالیسی اور شفافیت پر کسی بھی قیمت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ان دونوں ممبران کی جانب سے یہ سوال بار بار اٹھانے کے باوجود اروند کیجروال کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا۔ لیکن اٹھائیس مارچ کو پارٹی کے ایک اہم اجلاس میں یوگندر یادو اور پرشانت بھوشن دونوں کو سبھی اہم عہدوں سے برخاست کردیاگیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Yogendra Yadav
Image caption یوگندر یادو نے دلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی فتح میں اہم کردار ادا کیا تھا

پارٹی کے اس قدم کی میڈیا میں زبردست تنقید ہوئی اور اروند کیجریوال پر ’ون مین پارٹی‘ چلانے کا الزام عائد ہوا اور ان کی حریف جماعتوں نے کہا کہ ’ اچھا ہوا کہ حقیقت جلد ہی سامنے آگئی‘۔

اس سارے تنازعے کے بارے میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے پرشانت بھوشن سے بات کی اور پوچھا کہ اصل ماجرا کیا ہے؟ پرشانت بھوشن کہتے ہیں ’جو لوگ اس وقت عام آدمی پارٹی پر قابض ہیں انھوں نے پارٹی کے بنیادی اصولوں کو طاق پر رکھ دیا ہے۔ نہ جانے شفافیت، اندورنی جمہوریت، لوگوں کا راج اور لوک پال کی باتیں کہاں چلی گئی ہیں۔‘

عام آدمی پارٹی جس کے بارے میں کہا جاتا تھا وہاں ہر انسان کو اظہار رائے کی آزادی ہوگی ایسے میں اس طرح کے واقعات آئندہ عام انتخابات میں اروند کیجریوال کے لیے مشکلات پیدا نہیں کریں گے؟ پرشانت بھوشن کہتے ہیں ’ عام انتخابات جیتنے کے لیے آپ کو شاطر ہونا پڑتا ہے۔اروند کیجریوال نوجوان ہیں، پرجوش ہیں اور شاطر بھی ہیں تو وہ آسانی سے عام انتخابات جیت سکتے ہیں۔ ان کی پارٹی بھی سماجوادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی جیسے ہی ہوگی اور ان کا مقابلہ اپنے جیسی پارٹیوں سے ہی ہوگا‘۔

تو کیا ایسے میں عوام کو یہ امید چھوڑ دینی چاہیے کہ عام آدمی ایک متبادل سیاسی پارٹی ہے اور سب سے جدا ہے؟ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پروفیسر اور ماہر سیاست اسمر بیگ کا کہنا ہے ’ ہمیں اتنی جلدی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اس واقعہ سے سب کو دھچکا لگا ہے۔ یہ لڑائی آئیڈیلزم اور عملی سیاست کی ہے۔ پرشانت بھوشن اور یوگندر یادو کی ساکھ پر تو کوئی سوال اٹھا ہی نہیں سکتا، وہ کبھی بھی کسی لالچ میں آکر اپنے اصولوں کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دلی کے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کو ہر طبقے کے لوگوں نے ووٹ دیا تھا

وہیں جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پروفیسر شوگاتو بھادری کا کہنا ہے ’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اروند کیجریوال نے عوام سے جو وعدے کیے ہیں وہ ان کو پورا کررہے یا نہیں۔ ایک سیاسی پارٹی کی اندرونی سیاست کیا ہے اس کی پرواہ کیے بغیر ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ عوام کے لیے فلاحی کام کررہی ہے یا نہیں‘۔

یوگندر یادو نے کہا کہ پارٹی نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ ملک میں متبادل سیاست کو یقینی بنانے کے لیے وہ ایک نئی پارٹی بنائے گے۔ اس بارے میں پرشانت بھوشن کا کہنا ہے ’بار بار عوام کا اعتماد حاصل کرنا آسان کام نہیں ہے، ہمیں پہلے ایک ایسی تنظیم بنانی ہوگی جس میں عام آدمی پارٹی کے جو بنیادی اصول تھے ان کو عمل میں لایا جائے تبھی ہم سیاسی پارٹی بنانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔‘

اروند کیجریوال پر اس طرح کے الزامات لگ رہے ہیں کہ ان کی پارٹی سیاسی بحران کا شکار ہے، ان کے ممبر ان سے ناراض ہیں اور وہ کسی کی بات نہیں سنتے ہیں اور وہ بھی ہر پارٹی کی طرح ہیں جہاں اہم فیصلے صرف پارٹی کا سربراہ کرتا ہے؟ اروند کیجریوال نے اسی ہفتے ایک پریس کانفرنس میں ان سبھی سوالوں کا ایک جملے میں جواب دیا ’پارٹی میں سب ٹھیک ٹھاک ہے ‘۔

عام آدمی پارٹی کا اس پورے تنازعے کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ وہ دلی کی عوام کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور پارٹی جو بھی فیصلے کرتی ہے وہ عوام کی فلاح کے بارے میں سوچ کرکرتی ہے۔

ابھی یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ عام آدمی پارٹی نے اپنی ساکھ کھو دی ہے کیونکہ دلی میں ایک گھر میں ملازمہ سنیتا نے جو کہا اس سے یہ بات صاف ہے کہ اگر اروند کیجروال ان کی پارٹی عوام سے کیے وعدے پورا کرتی رہی تو ان کی منزل آسان رہے گی۔ سنیتا کا کہنا ہے ’ہم سے آج تک کسی پارٹی نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، اروند کیجریوال نے پانی اور بجلی سستی کرنے کی بات کہی اور اسے پورا کیا، ہمیں اور کیا چاہیے۔‘