جوہری مذاکرات اور جیل کی کال کوٹھڑی

تصویر کے کاپی رائٹ IHR
Image caption یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب ایران کی انسانی حقوق کے حوالے سے صورت حال انتہائی افسردہ ہے اور سزائے موت کے معاملات سب سے زیادہ ہیں

مغربی ممالک اور ایران میں جوہری مذاکرات کی طوالت اور تفصیل کے باوجود اگر اس میں ایک چیز کا ذکر نہیں تو وہ ایران میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال ہے۔

یوں لگتا ہے کہ جوہری معاہدے کے پیچھے بھاگتے ہوئے مغربی ممالک نے انسانی حقوق کا موضوع جان بوجھ کر پس پردہ رکھا ہوا ہے۔

ان میں کئی ملک ایسے ہیں جو سزائے موت کے خلاف بین الاقوامی مہم میں پیش پیش رہے ہیں لیکن اب وہ بھی ایران کے ساتھ عالمی برادری کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مصروف دکھائی دیتے ہیں باوجود اس کے کہ اس وقت ایران سزائے موت دینے اور اس پر عملدرآمد کرنے میں دنیا میں سب سے آگے ہے۔

آج سے تین برس پہلے ایک ایرانی کرد ’کائے‘ (اصلی نام نہیں) اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے جب پولیس نے ان کو گھر میں داخل ہو کر ان کوگرفتار کر لیا۔ بعد میں انہیں ہیروئین رکھنے کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔

تین سال بعد بھی ان کی پھانسی کا دن مقرر نہیں۔ ایران میں نصف سے زیادہ پھانسیاں منشیات سے متعلق جرائم میں دی جاتی ہیں۔

کائے ایک ایرانی کرد ہیں جن کا تعلق ایران کے مغربی آذربائیجن صوبے کے دارالحکومت ارمیہ سے ہے۔ ان کی گرفتاری کے وقت ان کا چند ماہ کا بچہ اب تین برس کا ہو گیا ہے۔

میں ناروے کے شہر اوسلو میں کائے کی سالی زیبا (اصلی نام نہیں) سے ملی جو دو سال قبل سیاسی پناہ لے کر ناروے آئی تھیں۔

ان کے مطابق کئی دوسرے کرد لوگوں کی طرح کائے پر بھی جھوٹا الزام لگایا گیا ہے جو نہ صرف علاقے کے کرد لوگوں کے خلاف ریاستی جبر کی ایک مثال ہے بلکہ مقامی اہلکاروں کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بھی۔

’یہ ان کے لیے پیسہ کمانے کی ایک سکیم کی طرح ہے۔ ہم کائے کو ایک نجی جیل میں رکھنے کے بھی پیسے دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ایک وکیل کو بھی تاکہ وہ پھانسی کی تاریخ ملتوی کراتا رہے۔‘

زیبا کے مطابق ان کے خاندان کی کہانی دراصل ارمیہ میں رہنے والے سینکڑوں کرد خاندانوں کی کہانی ہے۔

اوسلو میں مقیم ایران ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر اور ترجمان محمود عمیری مغادم کا کہنا ہے کہ ارمیہ میں ملک کی سب سے زیادہ خفیہ یا غیرسرکاری پھانسیاں دی جاتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ IHR
Image caption رپورٹ کے مطابق 2013 میں صدر حسن روحانی کی قیادت کے بعد سے پھانسیوں میں اضافہ ہوا ہے

ان کے مطابق ایران میں پھانسیاں دینے کی شرح پہلے ہی دنیا کے دوسرے ملکوں کی نسبت بہت زیادہ ہے لیکن اس شرح میں بھی حالیہ سالوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ملک کے ان فیصلوں کا شکار اکثر عرب، بلوچ یا کرد جیسی اقلیتیں ہیں۔

لیکن آجکل دنیا بھر کی توجہ جوہری معاہدے پر ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ایران میں زندگی کے اس پہلو سے ہٹتی ہوئی توجہ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال کو مزید نہ بگاڑ دے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے ایران کے سپیشل رپورٹئیر احمد شہید کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال سنگین ہے۔

’اس مسئلہ کے حل ہونے کے بہت کم اشارے ہیں۔ بعض سرکاری اہلکار انسانی حقوق کی حفاظت اور فروغ میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ سے مسلے کی کئی پہلو بدتر ہوتے نظر آتے ہیں جیسے کہ زندگی کا حق۔‘

سزائے موت کے مخالف ایران ہیومن رائٹس اور فرانسیسی ادارے اینسمبلے کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق صرف پچھلے برس ایران میں سات سو ترپن افراد کو پھانسی دی گئی۔

اس رپورٹ کے مطابق بیس ماہ قبل ایرانی صدر حسن روحانی کے انخاب کے بعد پھانسیوں میں ایک ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق روزانہ دو افراد پھانسی چڑھ جاتے ہیں۔

محمود عمیری کا کہنا ہے کہ ’پھانسیوں کے اس بڑھتے ہوئے رحجان کے بارے میں ہم نے دنیا میں کہیں کوئی قابل ذکر احتجاج نہیں دیکھا۔ یہ صورتحال احمدی نژاد کے وقت سے قطعی مختلف ہے باوجود اس کے کہ انسانی حقوق کی صورتحال اب پہلے سے کہیں زیادہ خراب ہے۔ شاید اس کی وجہ روحانی کی شخصیت ہے جو مغرب کے لیے احمدی نژاد کے مقابلے میں زیادہ پر کشش ہے۔‘

پچھلے ایک سال میں 14 بچوں کی پھانسی پر بھی دنیا کی خاموشی اس کی ایک مثال ہے۔

احمد شہید کے مطابق عالمی دباؤ اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے۔ ایسے ہی دباؤ کے تحت عورتوں کی سنگساری کا رکنا اس کی ایک مثال ہے۔

Image caption اوسلو میں مقیم ایران ہیومن رائٹس کے ڈائریکٹر اور ترجمان محمود عمیری مغادم کا کہنا ہے کہ ارمیہ میں ملک کی سب سے زیادہ خفیہ یا غیرسرکاری پھانسیاں دی جاتی ہیں

لیکن یہ بھی عجیب بات ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں جوہری مذاکرات کے دوران ہی ایران میں ایک اور انسانی حقوق مخالف سزا متعارف کرائی گئی یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ۔ تین مارچ کو ایران میں ایک ایسے شخص کی آنکھ نکال دی گئی جس پر ایک آدمی پر تیزاب پھینک کر اسے اندھا کر دینے کا الزام تھا۔

ایران ہیومن رائٹس کا مطالبہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بھی میز پر رکھا جائے۔محمود امیری مقدم کہتے ہیں کہ ایران کو اس وقت عالمی رائے کی بہت پرواہ ہے اور وہ اس لیے تعاون پر راضی ہے کہ اس پر لگی معاشی پابندیاں ختم ہو جائیں۔اس لیے ایران پر انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا شاید اس سے بہتر موقع پھر نہ ملے۔

لیکن احمد شہید اس سے متفق نہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جوہری مذاکرات ایران میں حقوق کی صورتحال پر براہ راست اثر انداز نہیں ہو سکتے۔ ’لیکن اگر پابندیاں ہٹتی ہیں تو اس سے وہ حالات پیدا ہو سکیں گے جن میں بہتر شفافیت کے ذریعے انسانی حقوق کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔‘

لیکن اس سے قطع نظر کے جوہری مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، ارمیہ میں قید کائے جیسے لوگوں کی یہی دعا ہے کے دنیا ان کے حالات کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے لے جتنا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کو۔

اسی بارے میں