بنارس: بندر انٹرنیٹ کے پھیلاؤ میں حائل

بندر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت میں بعض ہندو بندروں کو مقدس مانتے ہیں

انڈیا کی شمالی ریاست اترپردیش کے شہر بنارس میں انٹرنیٹ سروسز کو بہتر بنانے میں بندر ایک روکاٹ بن رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس شہر میں انٹرنیٹ کی سہولیات کو بہتر بنانے کے منصوبے کے تحت وہ یہاں ’او پٹیکل فائبر کیبلز‘ لگا رہے ہیں لیکن’میکاؤ‘ نسل کے بندر یہ کیبل کھا رہے ہیں۔

مرکزی حکومت کے ایک منصوبے کے تحت اس شہر میں 70000 کلومیٹر براڈ بینڈ کیبل لگائے جائیں گے جس کے سبب آئندہ تین برسوں میں 250000 گاؤں میں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔

خبررساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق بنارس میں حکام انٹرنیٹ کی کیبل لگانے کا کام رہے ہیں لیکن انہیں ان بندروں کے ساتھ جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے جو ان کیبلز کو کھا لیتے ہیں۔

روئٹرز نے شہر میں ایک کمیونیکیشن انجینئر اے پی شریواستو کے حوالے سے بتایا ہے ’ہم یہاں سے مندروں کو تو منتقل نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم یہاں کچھ بھی تبدیل نہیں کرسکتے ہیں۔ ہر عمارت پرانی بنی ہوئی ہے۔ لیکن بندر سارے تاروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔وہ تاروں کو کھا جاتے ہیں۔‘

بنارس نریندر مودی کا انتخابی حلقہ ہے اور ہندو‎ؤ‎ں کا مقدس شہر ہے۔ ہندو عقیدے کے مطابق یہ دنیا کا سب سے قدیم شہر ہے۔

بنارس میں ہر برس لاکھوں کے تعداد میں دنیا کے مختلف ممالک سے سیاح آتے ہیں۔ مقامی لوگ ان بندروں کو مقدس مانتے ہیں اس لیے اکثر سیاح اور مقامی لوگ ان بندروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔

اے پی شریواستو کے مطابق ان کی ٹیم کیبل لگانے کی متبادل حکمت عملی پر غور کر رہی ہے حالانکہ ابھی تک مسئلے کا حل ڈھونڈنا باقی ہے۔

بنارس ایک بے حدگنجان آباد علاقہ ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے یہاں مشکل سے کوئی ترقی ہوئی ہے، یہاں کی سڑکیں بے حد خراب ہیں اور چونکہ بہت بڑی تعداد میں یہاں گنگا ندی کے درشن کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سیاح آتے ہیں یہاں گندگی بھی بہت ہے۔ ریاست کی حکومت پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ بنارس کو اس کی مقبولیت کے اعتبار سے ایک بہتر شہر بنانے میں ناکام رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہاں تنگ گلیوں اور گھروں کے ایک دوسرے سے جڑے ہونے کی وجہ سے زیر زمین کیبل بچھانے کا تصور بھی مشکل ہے۔ حکام ان بندروں کو شہر سے باہر بھی نہیں نکال سکتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ان کا یہ قدم مقامی لوگوں کو ناراض کرسکتا ہے۔

اسی بارے میں