’ملا عمر کمال کی حسِ مزاح رکھتے ہیں‘

Image caption مبصرین اور طالبان پر نظر رکھنے والے ملا عمر کی پیدائش اور وراثت سمیت کئی باتوں پر متفق نہیں ہو پائے ہیں

افغان طالبان نے اپنے رہنما ملا محمد عمر کی سوانح عمری شائع کی ہے۔

پانچ ہزار الفاظ پر مشتمل یہ سوانح عمری ملا عمر کے افغان طالبان کے سپریم کمانڈر کے طور 19 سال پورے ہونے کے موقع پر افغان طالبان کی اہم ویب سائٹ پر شائع کی گئی ہے۔

اس میں ان کی پیدائش اور پرورش کے بارے میں متنازع حقائق کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس تحریر کے مطابق ملا عمر کا پسندیدہ ہتھیار آر پی جی 7 ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایک عام زندگی جیتے ہیں اور کمال کی حسِ مزاح کے مالک ہیں۔

سوانح عمری میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر کہاں ہیں، یہ کوئی نہیں جانتا لیکن وہ افغانستان اور دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر پیش آنے والے واقعات سے مطلع رہتے ہیں۔

افغانستان پر سنہ 2001 میں امریکی کمان میں اتحادی افواج کے حملوں کے بعد سے ملا عمر کو نہیں دیکھا گیا اور امریکی حکام نے ملا عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی ہوئی ہے۔

القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی حمایت امریکہ کی ملا عمر کے خلاف مہم کا بنیادی وجہ تھی۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ طالبان نے اپنے رہنما کی قیادت کے 19 سال مکمل ہونے پر ہی ان کی سوانح عمری کیوں شائع کی لیکن کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ افغانستان میں دولتِ اسلامیہ یا داعش کے بڑھتے اثر کا مقابلہ کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption تحریر کے مطابق 1983 سے 1991 کے درمیان فوجی کارروائیوں میں روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے ملا عمر چار بار زخمی ہوئے اور ان کی دائیں آنکھ بھی ضائع ہوگئی

مبصرین اور طالبان پر نظر رکھنے والے ملا عمر کی پیدائش اور وراثت سمیت کئی باتوں پر متفق نہیں ہو پائے ہیں۔

سوانح عمری کے مطابق ملا عمر کی پیدائش 1960 میں ملک کے جنوبی صوبے قندھار کے ضلع خاكریز کے چاہِ ہمت نامی گاؤں میں ہوئی تھی۔

تحریر میں طالبان اپنے سپریم لیڈر کا ذکر ملا محمد عمر ’مجاہد‘ کے نام سے کرتے ہیں اور اس میں کہا گیا ہے کہ وہ ہوتك قبیلے کی شاخ تومزئي سے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ ان کے والد مولوی غلام نبی ایک ’معزز عالم اور سماجی شخصیت‘ تھے اور ملا عمر کی پیدائش کے پانچ سال بعد ہی وہ وفات پا گئے تھے جس کے بعد ان کا خاندان صوبہ ارزگان منتقل ہوگیا تھا۔

اس سوانح میں کہا گیا ہے کہ سوویت فوجوں کے افغانستان پر حملے کے بعد ملا عمر ’مذہبی ذمہ داری کو نبھانے کے لیے‘ مدرسے میں جاری تعلیم چھوڑ کر جہادی بن گئے۔

تحریر کے مطابق 1983 سے 1991 کے درمیان فوجی کارروائیوں میں روسی فوجیوں سے لڑتے ہوئے ملا عمر چار بار زخمی ہوئے اور ان کی دائیں آنکھ بھی ضائع ہوگئی۔

1994 میں ملا عمر نے جنگی سرداروں کے درمیان ’قبائلی لڑائی‘ سے نمٹنے کے لیے مجاہدین کی قیادت کی۔

Image caption ’موجودہ سنگین حالات میں دشمن مسلسل ان پر نظر رکھ رہے ہیں لیکن ان کے معمول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔‘

اس کے بعد 1996 میں انہیں ’امیر المومنين‘ کا خطاب دیا گیا اور وہ طالبان کے سپریم لیڈر بن گئے۔

سوانح میں کہا گیا ہے کہ کابل پر قبضہ کرنے کے بعد ملا عمر نے وہاں اسلامی امارات آف افغانستان کی بنیاد رکھی جس کے خلاف ’شرعی قانون کو برداشت نہ کر پانے والی دنیا کی مغرور کافر قوتوں‘ نے مشترکہ فوجی کارروائی شروع کر دی۔

ملا عمر کی ’کرشماتی شخصیت‘ کے عنوان والے حصے میں کہا گیا ہے کہ ملا عمر متحمل مزاج کے ہیں اور انھیں جلد غصہ نہیں آتا اور یہ کہ وہ ملنسار ہیں اور کبھی خود کو اپنے ساتھیوں سے بڑا نہیں سمجھتے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے پاس نہ تو گھر ہے، نہ ہی کوئی غیر ملکی بینک اکاؤنٹ۔

سوانح عمری میں ’موجودہ حالات میں ان کی روزانہ سرگرمیاں‘ کے عنوان سے بھی ایک حصہ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ سنگین حالات میں دشمن مسلسل ان پر نظر رکھ رہے ہیں لیکن ان کے معمول میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی ہے۔‘

اس کے مطابق ملا عمر ’ظالم کافر غیر ملکی حملہ آوروں کے خلاف جہادی سرگرمیوں کا توجہ سے مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ ملک اور بیرون ملک ہونے والے واقعات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔‘