امریکی ماہر ارضیات چین کی جیل سے رہا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2012 میں ژیو کے اچھے رویے کی وجہ سے ان کی سزا میں 10 مہینے کی کمی کر دی گئی تھی

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کے مطابق امریکی ماہر ارضیات ڈاکٹر ژیو فینگ جو چین میں جاسوسی کرنے کے الزام میں سزا کاٹ رہے تھے انھیں رہا کرنے کے بعد امریکہ بھیج دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ژیو فینگ کو سنہ 2007 میں گرفتار کیا گیا تھا اور سنہ 2010 میں انھیں ریاست کی اہم خفیہ معلومات چوری کرنے کے الزام میں آٹھ سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔

امریکہ میں قائم یوئی ہوا فاؤنڈیشن کے مطابق ڈاکٹر ژیو کو جیل میں اچھا رویہ رکھنے کی وجہ سے دس ماہ قبل ہی بیجنگ کی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

تاہم ان کی رہائی کی اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈاکٹر ژیو فینگ کو سنہ 2007 میں گرفتار کیا گیا تھا

چین میں قیدیوں کے ساتھ بہتر سلوک روا رکھنے اور ان کی معافی کے لیے کام کرنے والے ادارے یوئی ہوا کا کہنا ہے کہ ژیو فینگ امریکی شہر ہیوسٹن میں واقع اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جان کیم نے اپنے ادارے کی جانب سے کہا ہے ’ ہم ژیو کے امریکہ میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس آنے پر بہت خوش ہیں۔‘

سنہ 2011 میں بیجنگ کی ایک عدالت نے ان کی سزا کو برقرار رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا جس کے بعد سنہ 2012 میں ژیو کے اچھے رویے کی وجہ سے ان کی سزا میں 10 مہینے کی کمی کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں