یمن کا بحران، سفارتی سرگرمیاں تیز، ایرانی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد

Image caption ایران کے وزیر خارجہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت سے ملاقات کریں گے

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی کمان میں جاری فوجی آپریشن میں پاکستان کے کردار پر بات کرنے کے لیے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف اسلام آباد پہنچے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے بدھ کو اسلام آباد پہچنے کے بعد پاکستان کے خارجہ اُمور کے مشیر سرتاج عزیز سے ملاقات کی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف اور قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صدق سے بھی ملاقات کریں گے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ جواد ظریف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔

پاکستانی سرحد کے قریب آٹھ ایرانی فوجی ہلاک

ایران کی پاکستانی سرحد کے اندر کارروائی کی دھمکی

پاکستان میں پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بھی یمن کی جنگ میں پاکستان کے ممکنہ فوجی کردار پر بحث ہو رہی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ یمن کے معاملے پر فیصلہ پارلیمان کی مشاورت سے کیا جائے گا۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سرحد کے قریب ایران کے آٹھ سرحدی محافظوں کی ہلاکت کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور پاکستان ایران کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گا۔

ایران کے وزیر خارجہ اپنے دو روزہ دورے کے دوران پاکستان کی سیاسی قیادت سے ملاقات کریں گے اور یمن کی جنگ کے معاملے پر پاکستان کو اعتماد میں لیں گے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق 22 رکنی وفد پاکستان آیا ہے اور وزیر خارجہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے اُمور پر بات کریں گے۔

ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ یمن کا بحران طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت سے حل کرنا ہو گا۔ وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ’تمام ممالک کو امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کر کے خطے کو عدم تحفظ سے دور کرنا ہو گا۔‘

مشرق وسطیٰ کے ممالک نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یمن کی جنگ میں حوثی باغیوں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔

گذشتہ روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے تہران میں صدر حسن روحانی سے ملاقات کی اور دونوں رہنماؤں سے یمن کے مسئلے کو طاقت کے بجائے بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے بھی گذشتہ ہفتے ترکی کا دورہ کیا تھا۔

نواز شریف نے پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی ’علاقائی سالمیت‘ کا دفاع کرے گا لیکن انھوں نے کہا کہ یمن کے بارے میں فیصلے میں ایران سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان سے بری، بحری اور فضائی تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

Image caption ایرانی حکام کے مطابق مسلح افراد حملہ کرنے کے بعد واپس پاکستان فرار ہوگئے

ادھر پاکستان نے بلوچستان کی سرحد کے قریب ایرانی سرحدی محافظوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان نے ایرانی حکام سے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں مدد کے لیے شواہد فراہم کرے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سرحد سے ایران میں داخل ہو کر حملے کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایران کے حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز ایرانی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے افراد پاکستان کی سرحد سے ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان میں داخل ہوئے۔ ایرانی حکام کے مطابق مسلح افراد حملہ کرنے کے بعد واپس پاکستان فرار ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت نہیں ہو سکی۔

دفترِ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے اقدام کی مذمت کرتا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان اور ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی سرحد پر شدت پسندی کے واقعات کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی آئی ہے۔

اسی بارے میں