سونیا اور مودی خطِ غربت سے نیچے!

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سب راشن کارڈ زرد رنگ کے تھے جو غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والے لوگوں کو جاری کیے جاتے ہیں

بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ریاستی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں بی جے پی کے رکنِ اسمبلی پاڈرنگ پھنڈكر نے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت کئی بڑے سیاسی رہنماؤں کے جعلی راشن کارڈ پیش کر کے سب کو چونکا دیا۔

پھنڈكر نے جعلی راشن کارڈوں کے ذریعے سرکاری سہولیات کے غیرقانوني استعمال کا معاملہ ایوان میں اٹھایا تھا۔

اسی سلسلے میں انھوں نے یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر اعظم نریندر مودی سمیت وزیر اعلیٰ دیویندر فرنويس، وزیر گريش باپٹ، اسمبلی میں اپوزیشن لیڈران رادھاكرشن، وکھے پاٹل اور دھنن جے منڈے کے نام سے جاری ہونے والے بوگس راشن کارڈ پیش کیے۔

یہ سارے راشن کارڈ زرد رنگ کے تھے جو غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والے لوگوں کو جاری کیے جاتے ہیں۔

ان راشن کارڈوں پر درج معلومات کے مطابق یہ سارے لوگ ودربھ کے بلڈھانا ضلعے کی تحصیل كھام گاؤ کے باشندے ہیں اور ان کی سالانہ آمدنی غربت کی لکیر کے نیچے دکھائی گئی ہے۔

پھنڈكر نے الزام لگایا کہ اس طرح بوگس راشن کارڈ بنا کر جہاں ایک طرف غریبوں کے لیے چلائی جانےوالی سرکاری سکیموں کا غلط استعمال ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف ان راشن کارڈوں کے ذریعے بوگس ووٹر تیار کرنے کا کاروبار بھی زور و شور سے چل رہا ہے۔

پھنڈکر کے ان دعووں کے بعد ریاستی حکومت کے وزیر گريش باپٹ نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اس عمل میں ملوث حکام کو فوری طور پر معطل کیا جائے گا۔

اسی بارے میں