ستیم فراڈ کیس میں راجو سمیت دس ملزمان پر جرم ثابت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رامالگا راجو اور ان کے خاندان نے ستیم کمپیوٹرز کی اقتصادی حالت کے بارے میں جھوٹی مہم چلائی تھی

بھارت کے شہر حیدرآباد میں ایک خصوصی عدالت نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کارپوریٹ فراڈ کے معاملے میں ستیم کمپیوٹرز کمپنی کے بانی اور سابق سربراہ رامالگا راجو سمیت دس افراد کو دھوکہ دہی، فراڈ اور سازش کا مجرم قرار دے دیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق عدالت نے انھیں آئی پی سی کی دفعہ 120 بی، 420، اور 409 کے تحت مجرم قرار دیا ہے۔

ان افراد کو جمعے کو سزا سنائی جائے گی۔

عدالت نے رامالگا کے علاوہ ان کے بھائی اور کمپنی کے سابق مینیجنگ ڈائریکٹر بھائی بی راما راجو اور کمپنی کے سابق چیف مالیاتی افسر ایس سری نواس ودلامانی کو بھی قصوروار ٹھہرایا۔

ستیم کمپیوٹرز سروسز لمیٹڈ کا گھپلا سنہ 2009 میں سامنے آیا تھا اور اس معاملے میں سی بی آئی کے مطابق سرمایہ کاروں کے 14 کھرب روپے ڈوب گئے تھے۔

رامالگا راجو اور ان کے خاندان نے ستیم کمپیوٹرز کی اقتصادی حالت کے بارے میں جھوٹی مہم میں اس کمپنی کے حصص بہت زیادہ قیمت پر لوگوں کو فروخت کیے یا دوسری کمپنیوں کے پاس ركھوائے تھے۔

کمپنی میں تقریباً 80 ارب روپے کا گھپلا سامنے آنے کے بعد رامالگا راجو کو سات جنوری 2009 کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم نومبر 2011 میں سپریم کورٹ نے رامالگا راجو کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت چار سال سے زیادہ عرصے تک چلی اور اس دوران ڈھائی برس تک رامالگا اور ان کے بھائی جیل میں رہے تاہم اس وقت بھی ان دونوں سمیت تمام دس ملزمان ضمانت پر ہیں۔

اس گھپلے کے بعد ستیم کمپنی کو مہندرا اینڈ مہندرا گروپ نے خرید لیا تھا جس کے بعد اس کا نام مہندرا ستیم ہو گیا تھا۔

اس معاملے کے بعد ہندوستان کے کارپوریٹ قوانین میں کئی اہم تبدیلیاں کی گئیں اور مبصرین کے مطابق فیصلے کے بعد اب اور بھی تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں