’خفیہ دستاویزات‘ افشا کرنے پر چینی صحافی کو سات سال قید

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 71 سالہ یو گاؤ ماضی میں 1990 کی دہائی میں بھی قید رہ چکی ہیں

چین میں عدالت نے ایک سینیئر صحافی کو خفیہ دستاویزات ایک غیرملکی ویب سائٹ کو دینے کے الزام میں سات سال قید کی سزا سنا دی۔

بیجنگ میں قائم عدالت نے 71 سالہ گاؤ یو کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ’غیرقانونی طور پر ریاستی راز غیر ملکیوں کو فراہم کیے۔‘

چین نے افشا کیے جانے والی دستاویزات کے بارے میں تو واضح طور پر کچھ نہیں کہا ہے لیکن خیال ہے کہ یہ کمیونسٹ پارٹی کی حکمتِ عملی کی دستاویزات تھیں جنھیں ’دستاویز نمبر نو‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ دستاویز جمہوریت، سول سوسائٹی اور پریس کی آزادی پر کنٹرول کے بارے میں ہے۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یو گاؤ کی سزا کو ’انصاف کی توہین‘ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یو گاؤ کی سزا کو ’انصاف کی توہین‘ قرار دیا ہے

تنظیم کا کہنا ہے کہ ’گاؤ ریاستی رازوں کے مبہم قانون کا نشانہ بنی ہیں جسے حکام اظہار رائے کی آزادی کے حامی افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں‘۔

یو گاؤ کے وکیل شینگ باؤجن کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’مایوس کن‘ ہے اور وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے۔

گاؤ کو اپریل 2014 میں حراست میں لیا گیا تھا جس کے چند ہفتوں بعد سرکاری ٹی وی پر ان کی ایک ویڈیو نشر کی گئی تھی جس میں وہ اعتراف کر رہی تھیں کہ ان سے’بڑی غلطی‘ ہوئی ہے۔

چینی صحافی کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ بیان اپنے بیٹے کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیے جانے کے بعد ریکارڈ کروایا تھا۔

خیال رہے کہ یو گاؤ ماضی میں 1990 کی دہائی میں بھی قید رہ چکی ہیں۔ اس وقت ان پر صدر تیانگ زن من کی تقریر ہانگ کانگ کے ایک اخبار کو فراہم کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

اسی بارے میں