’آئیے وائٹ ہاؤس میں جمعہ کی نماز پڑھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زیادہ تر چٹكلوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو جانے کے بعد عام ایرانیوں کی روزمرہ کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو لے کر مذاق کیا جا رہا ہے

’اوباما، اب رشتے اچھے ہیں۔ آئیے اب وائٹ ہاؤس کے عقبی حصے میں جمعہ کی نماز پڑھیں۔‘

’یا خدا! اب ہم امریکہ آ جا سکتے ہیں! میں پہنوں گي کیا!‘

ایران اور دنیا کی چھ بڑے طاقتوں کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ ایک سنجیدہ موضوع ہے۔ لیکن کچھ عام ایرانی اس کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے اس پر ہنسی مذاق کر رہے ہیں۔

اس معاہدے کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان جس طرح کا ممکنہ اتحاد ہوگا اس حوالے سے ایران میں موبائل پیغامات اور سوشل میڈیا پر نئے نئے لطیفے بنائے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ایرانی سوشل میڈیا پر شیئر کیا جانے والا ایک لطیفہ

ایک مذاق میں کہا گیا ہے، ’جیسے اوباما کے نام پر مینہٹن کا نام تبدیل کرکے میش حسن (صدر حسن روحانی کے نام پر) کر دیا گیا، ویسے ہی روحانی کو بھی ارك (شہر) کا نام براک رکھنے کا حکم دینا چاہیے۔‘

ایران اور امریکہ کے ایک ساتھ آ جانے کی امید سے عام ایرانیوں میں جوش کا ماحول ہے۔

انھیں لگ رہا ہے کہ یہ ایران کے طویل سیاسی تنہائی کے ختم ہونے کی علامات ہیں۔

زیادہ تر چٹكلوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو جانے کے بعد عام ایرانیوں کی روزمرہ کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو لے کر مذاق کیا جا رہا ہے۔

مثلاً ایک شخص نے لکھا ہے، ’میں نے پرائڈ (مقامی کار برانڈ) خریدنے کے لیے 20 لاکھ تومان (سات ہزار ڈالر) بچائے تھے۔ اب اس معاہدے کے بعد میں سوچ رہا ہوں کہ پورشے خريدوں یا میسیراتي؟‘

ایران میں سنہ 1979 کے انقلاب کے دوران امریکہ کے حامی شاہ کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔

ایک روایتی قدامت پسند ملک جہاں عام طور پر خواتین اسلامی نقاب پہنتی ہیں، وہاں معجزانہ طور پر ایک اعتدال پسند ملک میں تبدیل ہو جانے کے امکان پر بھی مذاق کیا جا رہا ہے۔

ایک صارف نے لکھا ہے، ’پیارے دوستوں، یہ معاہدہ جوہری معاملے پر ہوا ہے! براہ مہربانی اسے دوسروں کو بھی بتائیں! لوگ تو سڑکوں پر شارٹس اور ٹینک ٹاپس پہن کر نکل رہے ہیں!‘

اسی بارے میں