کیا مفتی سعید نظریات کی جنگ ہار گئے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ مفتی سعید کی حکومت آغاز سے ہی نئی دہلی کے دباؤ میں رہی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں بھارت نواز سیاست میں 50 سالہ تجربے کے حامل مفتی محمد سعید 13 برس میں دوسری بار کشمیر کے وزیراعلیٰ بنے ہیں۔

سنہ 2002 میں جب انھوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد انھوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ مسلح جنگ کو ختم کر کے کشمیر میں نظریات کی جنگ چھیڑیں گے اور اسی جنگ کے طفیل امن قائم ہو گا۔

بھارت نوازوں کا موقف یہ ہے کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا ہے اور علیحدگی پسند کہتے ہیں کہ برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد بھارت اور پاکستان نے کشمیریوں کی سیاسی خواہشات کے برعکس کشمیر پر فوج کشی کی۔

نظریات کے یہ دونوں دھارے کشمیر کی سیاسی تاریخ میں متوازی طور بہتے رہے ہیں۔

لیکن کشمیری سیاست کی یہ قدیم روایت رہی ہے کہ بھارت نواز حکمران علیحدگی پسندوں کی سیاسی سرگرمیوں تک محدود کرتے ہیں۔ مبصرین اس کی دو وجوہات بتاتے ہیں: ایک یہ کہ بھارت نواز دراصل علیحدگی پسندوں کی ہی سیاسی زمین پر سرگرم رہتے ہیں اس لیے انھیں منظر سے دُور رکھنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اقتدار کو بچائے رکھنے کے لیے نئی دہلی کو خوش رکھنا ضروری ہوتا ہے اور نئی دہلی کو خوش رکھنے کا نسخہ یہی ہے کہ ہند مخالف قوتوں کو حاشیے پر دھکیل دیا جائے۔

اسی طرح کے سیاسی پس منظر میں مفتی سعید نے خود کو روایت شکن کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔

سنہ 2002 سے سنہ 2005 تک وہ وزیراعلیٰٰ رہے تو علیحدگی پسندوں نے کشمیر کے چپے چپے پر عوامی ریلیاں منعقد کیں، سیمینار منعقد کیے اور ان کے اجتماعات میں نہ صرف پاکستان بلکہ مسلح گروپ لشکر طیبہ کے حق میں بھی نعرے بازی ہوتی تھی۔ لیکن کسی کے خلاف مقدمہ نہیں ہوا اور کسی کا میڈیا ٹرائل نہیں ہوا۔

اس پالیسی کو مفتی نے ’بیٹل آف آئیڈیاز‘ یعنی نظریات کی جنگ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ دنوں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک ریلی میں پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی گئی

لیکن اس بار مفتی سعید کے اقتدار میں کوئی اور نہیں بلکہ ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی شریک ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بی جے پی آزاد بھارت کی تارِیخ میں پہلی بار اپنے بل پر نئی دہلی میں حکومت بنا چکی ہے۔ اس تناظر میں مفتی سعید کے نظریات کی جنگ کیا معنی رکھتی ہے؟

تجزیہ نگار شیخ فیروز کہتے ہیں: ’ویسے بھی کشمیر کا کوئی وزی راعلیٰ بااختیار نہیں ہوتا۔ یہ تو محض رسمی حکومت ہوتی ہے۔ کرفیو کب نافذ کرنا ہے، کب ہٹانا ہے اور کس شخص کو کس جرم میں گرفتار کرنا ہے یا رہا کرنا ہے، یہ سب احکامات نئی دہلی سے صادر ہوتے ہیں۔‘

واضح رہے 44 سالہ مسرت عالم بٹ کو حالیہ دنوں حکومت نے ساڑھے چار سال کی قید کے بعد عدالتی احکامات کے بعد رہا کیا تو مفتی سعید کی شریک اقتدار بی جے پی نے جموں سے لےکر دہلی تک ہنگامہ برپا کر دیا۔

گذشتہ دنوں انھوں نے سید علی گیلانی کی ریلی میں پاکستان کے حق میں نعرے بازی کی تو ان کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں اور پانچ دوسرے امور سے متعلق قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

جمعرات کو بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے مفتی سعید کو فون پر بتایا : ’اس طرح کی حرکتیں برداشت نہیں کی جائیں گی۔‘

اس کے فوراً بعد مفتی سعید نے کہا کہ ’قانون اپنا کام کرے گا‘ اور صرف 24 گھنٹے بعد مسرت کو پھر سے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ان کی تازہ قید کی مُدت کیا ہو گی، تاہم علامتی طور پر مفتی سعید نے حکومت ہند کی خواہشات کے احترام میں ’فوری اقدام‘ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس بار مفتی سعید کے اقتدار میں ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی شریک ہے

اکثر مبصرین کہتے ہیں کہ چھہ ہفتے پرانی مفتی سعید کی حکومت آغاز سے ہی نئی دہلی کے دباؤ میں رہی ہے۔

یکم مارچ کو حلف برداری کے بعد جب انھوں نے پاکستان اور وہاں موجود مسلح قوتوں کو گذشتہ برس کشمیر میں ہونے والے 75 فی صد انتخابات کا کریڈٹ دیا تو بی جے پی کا ردعمل اس قدر شدید تھا کہ نوبت قطع تعلق تک پہنچ گئی تھی۔

ایسی صورتِ حال میں کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مفتی سعید نظریات کی جنگ ہار گئے ہیں۔

تاریخ اور سیاسیات کی محقق عندلیب فاروق کہتی ہیں: ’اصل میں مفتی نے یہ نعرہ ایک تجویز کے طور پر دیا تھا، اس کے فوراً بعد وہ وزیراعلیٰ بن گئے۔ چونکہ اُس وقت انھیں کانگریس کی حمایت حاصل تھی، لہِٰذا علیحدگی پسندوں کو ’فری رن‘ ملا۔

’لیکن بی جے پی کے دور میں مفتی صاحب کو اپنی نظریات کی جنگ میں سیز فائر کرنا پڑے گا۔ اور بار بار کے سیز فائر سے ان کی اپنی نظریاتی اساس گر جائے گی۔‘

اسی بارے میں