’میں اس کا بازو ہوں تو وہ میری آنکھیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دونوں معذور افراد ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے ہیں

دو معذور افراد جن میں سے ایک نابینا ہے اور دوسرے کے دونوں بازو کٹے ہوئے ہیں گذشتہ دس برسوں سے بھی زیادہ عرصے سے چین کے ایک دیہی علاقے میں درخت لگا رہے ہیں۔

ہر روز جیا ہیشیا اور جیا وینچی ایک ہتھوڑا اور ایک دھات سے بنی نلی لے کر چل پڑتے ہیں۔ ان کی منزل ایک آٹھ ہیکٹر (80,000 مربع میٹر) کا زمین کا ایک ٹکڑا ہے جو انھوں نے مقامی حکومت سے لیز پر لیا ہے۔

وہاں جانے کا راستہ ان کو اچھی طرح آتا ہے کیونکہ وہ اس طرف تقریباً 13 برسوں سے جا رہے ہیں۔ ان کا ہمیشہ یہ مقصد رہا ہے کہ یہاں زیادہ سے زیادہ پودے اگائے جائیں تاکہ اپنے گاؤں کو سیلاب سے بچایا جائے اور ارد گرد کے ماحول کو بہتر بنایا جائے۔

شمال مشرقی چین کے ایک چھوٹے سے دیہی علاقے میں یہ دونوں اکٹھے سکول جاتے تھے۔ وینچی کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ سے بھائیوں کی طرح ہیں، ان کی عمروں میں صرف ایک سال کا فرق اور وہ ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔

اپنے پلاٹ پر پہنچنے کے لیے وینچی، جس کے دونوں بازو کٹے ہوئے ہیں، اپنے نابینا دوست ہیشیا کی جنگل میں رہنمائی کرتے ہیں، جو اس کی جیکٹ کو پکڑے رکھتے ہیں۔ جب وہ دریا کے پاس پہنچتے ہیں تو وینچی اپنے دوست کو کاندھے پر اٹھا لیتے ہیں تاکہ ان کے پاؤں تیز پانی میں پھسل نہ جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک رہنمائی کرتا ہے تو دوسرا اس پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کے پیچھے پیچھے چلتا ہے

ہیشیا کہتے ہیں کہ ’میں اس کا ہاتھ ہوں، وہ میری آنکھیں ہے۔ ہم اچھے پارٹنر ہیں۔‘

54 سالہ ہیشیا جو عمر میں بڑے ہیں، آنکھوں میں سفید موتیے کی وجہ سے پیدائشی طور پر ایک آنکھ سے معذور پیدا ہوئے تھے اور بدقسمتی سے سنہ 2000 میں فیکٹری میں کام کرتے ہوئے پتھر کی ایک کنکری ان کی آنکھ میں چلی گئی جس کی وجہ سے وہ دونوں آنکھوں سے معذور ہو گئے۔

ان کے ساتھی اور قریبی دوست، 53 سالہ وینچی، تین سال کی عمر میں اس وقت دونوں بازوں سے محروم ہوئے جب زمین پر پڑے ننگے تاروں کو چھونے سے انھیں ہائی وولٹیج کا کرنٹ لگا۔

دونوں آنکھیں جانے کے بعد ہیشیا کے لیے معمولات ِزندگی میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ شروع شروع میں بہت مایوس رہنے لگا تھا۔ ’میں پستی میں ڈوبتا چلا گیا۔‘

اس وقت ان کا بیٹا چار برس کا تھا اور بیماری کی وجہ سے ان کی بیوی کام نہیں کر سکتی تھی۔ اور کیونکہ گھر میں کمانے والے صرف ہیشیا تھے اس لیے ان کی کمائی کا واحد ذریعہ بھی ختم ہو گیا۔

وینچی کہتے ہیں کیونکہ جب ان کے بازو کاٹے گئے وہ بہت چھوٹے تھے اس لیے ان کی بازوؤں کے ساتھ کوئی یاد نہیں ہے۔

’جب میں بڑا ہو رہا تھا تو میں گاؤں کے دوسرے بچوں کی طرح کھیلتا، جو وہ کرتے میں بھی وہی کرتا۔ میں ان کے ساتھ تیراکی کرتا اور میں ان کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کرتا۔‘

وینچی نے بغیر بازووں اور ہاتھوں کے زندہ رہنا سیکھ لیا تھا۔ کھیت میں وہ ہل پکڑنے کے لیے اپنے کاندھے اور گردن کا استعمال کرتے اور گھر میں سوئی دھاگہ استعمال کرنے کے لیے اپنے پاؤں۔

انھوں نے کہا کہ گاؤں میں سرکاری حکام ہمیشہ ان کی دیکھ بھال کرتے اور جب وہ سات برس کے ہوئے تو انھوں نے ان کے والدین کو کہا کہ انھیں سکول بھیج دیں۔ وینچی نے سنہ 1976 میں گریجویشن کی۔ اس کے بعد ان کو مقامی محکمہ جنگلات کی ٹیم کے ساتھ کام مل گیا۔ یہاں وہ پھلوں کے باغوں کی دیکھ بھال کرتے اور درختوں کو پانی دیتے، اور اس طرح انھیں باہر پودے اگانے کا تجربہ بھی حاصل ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اونچی شاخیں کاٹنے کے لیے ایک کو دوسرے کے کاندھے پر بیٹھ کر ان تک پہنچنا پڑتا ہے

ہیشیا کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد سنہ 2000 میں قسمت نے انھیں دوبارہ ملا دیا تاکہ وہ ایک دوسرے کی مدد کر سکیں اور پھلیں پھولیں اور وہ کام کر سکیں جو وہ اکیلے نہیں کر سکتے تھے۔ انھوں نے اپنے دوست کو مشورہ دیا کہ وہ درخت اگانا شروع کر دیں تاکہ وہ اتنے پیسے کما سکیں جس سے اپنے اپنے خاندانوں کی مدد کر سکیں۔ ان کی اس کوشش کی وجہ سے ان کو مقامی حکومت کی طرف سے کچھ رقم مل جاتی ہے۔

وہ دونوں اس بات پر بھی پھولے نہیں سماتے کہ ان کے کام کے ماحولیاتی فوائد بھی ہیں، لیکن ان کو یہ پتہ ہے کہ ان کی معذوری کی وجہ سے ان کے پاس کہیں اور کام کرنے کے مواقع بھی کم ہیں۔

ہیشیا کہتے ہیں کہ ’میرے لیے یہ بڑا پیچیدہ مسئلہ ہے۔ میں معذور ہوں اور میں اپنے خاندان پر بوجھ بننا نہیں چاہتا، اس لیے میں درخت اگاتا ہوں۔ دس سال بعد درخت بڑے ہو جائیں گے اور مجھے پیسے ملیں گے۔‘

ان کا کام ہے کہ وہ جتنے زیادہ درخت اگا سکتے ہیں اگائیں۔ یہ ایک لمبا اور محنت طلب کام ہے جس میں انھیں موجودہ درختوں سے بہتر شاخیں کاٹنا پڑتی ہیں جو انھوں نے ہی دس پہلے لگائے تھے۔

وینچی اونچی شاخیں کاٹنے کے لیے اپنے دوست ہیشیا کے کاندھے پر چڑھ جاتے جس کے لیے ان کا ایک دوسرے پر بھروسہ بہت ضروری ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ’جب ہم اکٹھے کام کرتے ہیں تو ہم ایک ہو جاتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ابھی انھوں نے دس ہزار صحت مند درخت لگائے ہیں اور تین ہزار اور بھی تھے جو مر گئے۔ اگرچہ ان کا کام شاید بہت تیز نہ ہو لیکن تین ہیکٹر جگہ درختوں سے بھر چکی ہے اور پرندے یہاں درختوں پر گھونسلے بنانے آتے ہیں۔

ہیشیا کہتے ہیں کہ جب انھوں نے اکٹھے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تھا تو دوسرے گاؤں والوں کو اس پر رتی بھر بھی یقین نہیں تھا۔ ’ان کو اس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ جو ہم کر رہے ہیں وہ ممکن ہے۔ دریا کا سارا کنارہ کئی برسوں سے بنجر تھا اور وہاں شاذو ناذر ہی کوئی درخت ہو۔‘

لیکن کچھ برسوں کے بعد درخت بڑے ہو گئے اور سارا علاقہ سبز ہو گیا اور گاؤں والا نے اپنا رویہ بدل لیا۔ وہ اب ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔

ہیشیا کہتے ہیں کہ ’وہ اب ہمارے اوزاروں کو ٹھیک کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، درختوں کو پانی دیتے ہیں اور گھاس پھونس کاٹنے میں ہماری مدد کرتے ہیں۔ انھوں نے ہمیں اگانے کے لیے پودے بھی دیے ہیں۔‘

ہیشیا کے لیے حالیہ خبر کہ ان کی بصیرت واپس آ سکتی ہے ایک زبردست خبر ہے۔ وہ ابھی ڈونر کی ویٹنگ لسٹ پر ہیں۔

لیکن وہ کہتے ہیں کہ اگر ان کی بصیرت واپس آ گئی تو تب بھی وہ وینچی کے ساتھ درخت اگاتے رہیں گے۔ ’اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میری بصیرت واپس آتی ہے یا نہیں، میں اپنی آخری سانس تک کام کرتا رہوں گا۔‘

اسی بارے میں