کانگریس اور راہول کا سیاسی امتحان

راہل گاندھی تصویر کے کاپی رائٹ INC INDIA
Image caption راہل گاندھی کے پاس یہ سنہرا موقع ہے کہ وہ اپنی اہلیت ثابت کر سکیں

ایک سال قبل بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں اپنی تاریخ کی بدترین شکست کے بعد بھارت کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی پارٹی قیادت اور کنفیوژن کے شدید بحران سے دو چار رہی ہے۔

کانگریس برِصغیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور یہ ملک کے ہر علاقے میں موجود ہے۔

پارلیمانی انتخابات میں شکست کے بعد اگرچہ اس کے تنظیمی ڈھانچے کو کچھ چوٹ پہنچی ہے لیکن یہ اب بھی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور ابھی تک پارٹی کے اندر بڑے پیمانے پر کسی ٹوٹ پھوٹ یا پارٹی کو ترک کرنے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے ہیں جو کانگریس کے مستقبل کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔

لیکن جو چیز کانگریس کے لیے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے وہ ہے قیادت کا بحران۔

کانگریس نے راہول گاندھی کی قیادت میں انتخاب لڑا تھا۔ راہول گزشتہ دس برس سے ملک کی سیاست میں سرگرم ہیں۔ انہیں اپنی قیادت کے مظاہرے کا کئی بار موقع ملا لیکن وہ ملک کے عوام پر کوئی اثر چھوڑنے میں اب تک پوری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

راہول نے پارلیمانی انتخابات میں شکست فاش کے بعد اپنی کارکردگی اور خامیوں پر تنہائی میں غور و حوص کے لیےدو مہینے کی تعطیل لے رکھی تھی۔

باور کیا جاتا ہے کہ ان دو مہینوں میں انہوں نے اپنی شخصیت کے ہر اچھے برے پہلو پر غور کیا ہے اور اب وہ ایک بار پھر سیاست میں واپس آئے ہیں۔ وہ کانگریس کے نائب صدر ہیں اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ انہیں شاید جلد ہی پارٹی کا صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

کانگریس جب اقتدار میں تھی اس وقت بی جے پی کے موجودہ صدر امت شاہ کو فرضی پولیس مقابلوں کے معاملات میں جیل جانا پڑا تھا اور وہ اس وقت ضمانت پر رہا ہیں۔

وزیر اعظم بننے سے پہلے خود نریندر مودی کے سر پر گجرات فسادات کے سلسلے میں تلوار لٹک رہی تھی۔

ان دنوں کی تلخیاں دونوں رہنماؤں کے ذہن پر اس شدت سےنقش ہیں کہ جب مودی نے انتخابی مہم چلائی تو انہوں نے کانگریس کو ہرانے کا نہیں بلکہ کانگریس پارٹی کو ختم کرنے کا نعرہ دیا۔

بی جے پی ایک ہندو نواز نیم مذہبی جماعت ہے اور ہندوتوا اس کا سیاسی ایجنڈا رہا ہے لیکن مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد اس ایجنڈے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اپنی تاریخ میں پہلی بار بی جے پی نے پارٹی کی رکنیت سبھی کے لیے کھول دی ہے اور پہلی بار رکنیت کےلیے کھلی مہم چلائی گئی ہے۔

سیاست میں نظریے کا تصور معدوم ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق رکنیت کی مہم کے دوران بی جے پی نے پارٹی کے دس کروڑ ممبر بنائے ہیں۔ اس لحاظ سے بی جے پی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کانگریس کے مایوس ورکرز اور انظامی ڈھانچے کے اراکین کی نظریں ایک متحرک رہنما کی طرف لگی ہوئی ہیں

کانگریس کے لیے ایک اچھی بات یہ ہے وزیر اعظم مودی اور ان کی جماعت جن دعوؤں اور وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اور انتخابات کےدوران عوام کی تمناؤں کو جس طرح ابھارا گیا تھا اس کی مناسبت سے وہ کارکردگی انجام نہیں دے پائی ہے۔

مودی حکومت کا ایک برس پورے ہونے کو ہے۔ اس مدت میں اس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جو سابقہ حکومت کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر مختلف ہو۔ اس کے بر عکس مودی حکومت کی شبیہ ایک کسان مخالف اور امیر نواز حکومت کی بنتی جا رہی ہے۔

مودی کے پاس حکومت کے لیے ابھی چار برس باقی ہیں اور اس مدت میں بہت کچھ کیا جا سکتا ہے لیکن مودی کا پہلا برس ان کے بیشتر حامیوں کے لیے عمومی طور پر ایک مایوس کن برس رہا ہے۔

کانگریس کے لیے یہ اپنی صفیں درست کرنےکا ایک سنہری موقع ہے۔ پارٹی کے مایوس ڈھانچے کو ایک متحرک، توانائی اور جذبے اور امنگوں سے بھر پور ایک عوامی رہنما کی ضرورت ہے جو صرف مودی کو چیلنج نہ کرے بلکہ جو ایک بہتر مستقبل کا متبادل خاکہ بھی پیش کر سکے۔

دو مہینے کے وقفے کے بعد کانگریس نے راہول گاندھی کو اسی نئی قیادت کی امید کے ساتھ دوبارہ سیاست میں اتارا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے برعکس راہول کے پاس اپنی صلاحیت کے مظاہرے کے لیے وقت بہت کم ہے۔

وہ پہلے ہی کئی مواقع ضائع کر چکے ہیں اور اگر اس بار وہ ناکام ثابت ہوئے تو یہ صرف ان کے سیاسی کریئر کا اختتام نہیں ہو گا بلکہ کانگریس بھی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ سے بچ نہیں سکے گی۔

اسی بارے میں