جلال آباد میں خودکش دھماکہ، 33 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption افغانستان صوبہ ننگرہار کے پولیس سربراہ فضل احمد شہرزاد نے بتایا کہ یہ دھماکہ ایک بینک کے سامنے ہوا

افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں حکام کا کہنا ہے ایک خودکش بم دھماکے میں کم از کم 33 افراد ہلاک اور 100 زخمی ہوئے ہیں۔

سنیچر کی صبح ہونے والے اس خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل ہیں اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

افغانستان صوبہ ننگرہار کی پولیس کے سربراہ فضل احمد شیرزاد نے بتایا کہ یہ دھماکہ ایک بینک کے سامنے ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سرکاری ملازمین اور فوجی نیو بینک کابل کی شاخ کے سامنے تنخواہ لینے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ دھماکہ ایک خود کش بمبار نے کیا جو موٹر سائیکل پر سوار تھا۔

انھوں نے کہا کہ ابھی یہ بتانا قبل از وقت ہے کہ آيا اس شخص نے خودکش بیلٹ پہن رکھی تھی یا پھر دھماکہ خیز مادہ موٹر سائیکل سے نصب تھا۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے ایک اور بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ننگرہار کے حکومتی ترجمان احمد ضیا عبدل زئی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں

کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی کے مطابق گذشتہ کئی ماہ میں جلال آباد میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔

حملے کی ذمہ دار افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کی شاخ کی جانب سے قبول کی گئی ہے لیکن اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’دہشت گردی کی بزدلانہ اور ہولناک‘ کارروائی قرار دیا ہے۔

افغان طالبان نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے پیچھے ان کا ہاتھ نہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا: ’یہ ایک شیطانی فعل ہے۔ ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی جلال آباد حملے کی شدید مذمت کی ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ دہشتگردی پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ دشمن ہے اور دونوں ملک ملکر اس کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان سے تعاون کیا جائے گا۔

اسی بارے میں