چار اراکین کو پارٹی سے نکالنے پر ’آپ‘ پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption عام آدمی پارٹی میں گذشتہ ماہ سے تنازع جاری ہے جبکہ پارٹی سے چار اہم رہنما کو نکال دیا گیا ہے

دہلی میں برسر اقتدار عام آدمی پارٹی (آپ) نے سینیئر رہنما يوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سمیت چار مبینہ باغی لیڈروں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔

پارٹی کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے برطرف رہنما نے عام آدمی پارٹی کو آمروں کی پارٹی کہا ہے۔

منگل کو دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت بھوشن نے ’آپ‘ کو ’کھاپ‘ سے تعبیر کیا۔ کھاپ دہلی کے نواحی علاقوں کی پنچایت ہے جو اپنے مطلق العنان فیصلوں کے لیے سرخیوں میں رہتی ہے۔

بی بی سی سے بات چیت میں پرشانت بھوشن نے کہا: ’ہمارے لیے یہ باعثِ سکون ہے کہ 26 فروری کو شروع ہونے والا یہ ڈراما ختم ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہمیں پہلے پولیٹیکل افیئرز کمیٹی، قومی مجلس عاملہ اور اب پارٹی سے نکال دینے کی مہم چھیڑی گئی تھی۔‘

پرشانت بھوشن نے کہا: ’کن اصولوں کے تحت اس پارٹی کو بنایا گیا تھا اور آج اس پر قابض لوگوں نے ایک کھاپ پنچایت کی طرح اسے کہاں پہنچا دیا؟‘

یوگیندر یادو نے کہا: ’رات مایوسی اور غصہ تھا لیکن آج عزم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption یوگیندر یادو نے کہا کہ وہ پہلے مایوس ہوئے تھے لیکن اب پرعزم ہیں

پارٹی کے ایک بانی رہنما شانتی بھوشن نے فیصلے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا: ’اروند کیجری وال کو پہچاننے میں مجھ سے غلطی ہوئی۔ یہ بہت بڑی غلطی تھی کہ وہ کس قسم کا انسان ہے۔ اس بھارت کو دکھا دیا ہے کہ وہ ہٹلر ہے۔‘

دوسری جانب سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر پارٹی کے اس فیصلے پر تنقید کے ساتھ ساتھ مذاق کا بھی سلسلہ جاری ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے عام آدمی پارٹی کے ترجمان دیپک واجپئی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ پارٹی کی انتظامیہ کمیٹی نے يوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، پروفیسر آنند کمار اور اجیت جھا کو ’پارٹی مخالف سرگرمیوں‘ کی وجہ سے نکال دیا ہے۔

اس سے پہلے عام آدمی پارٹی نے ان چاروں رہنماؤں کو مبینہ پارٹی مخالف سرگرمیوں کے لیے شوکاز نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا تھا۔

جبکہ اس سے بھی پہلے یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو پارٹی کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے نکالا گیا تھا۔

پرشانت بھوشن اور يوگیندر یادو پارٹی کے بانی ارکین میں سے ہیں۔

پارٹی نے یادو اور بھوشن کو پیر کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس کے بعد پرشانت کا جواب ملنے کے بعد پارٹی نے ان لیڈروں کے خلاف یہ قدم اٹھایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption ایگزیکٹیو کمیٹی سے نکالے جانے کے وقت پارٹی کے بعض اراکین کا سلوک

پرشانت بھوشن نے انتظامیہ کمیٹی کی تشکیل پر ہی سوال اٹھاتے ہوئے اسے غیر آئینی قرار دیا تھا۔

بھوشن نے اپنے جواب میں کہا کہ ’مجھے پتہ نہیں ہے کہ قومی ڈسپلن کمیٹی کب اور کیوں تشکیل دی گئي۔‘

انھوں نے کمیٹی میں شامل دو ارکان پنکج گپتا اور آشیش كھیتان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

ٹوئیٹر پر سیموئل کے نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل samuelongc سے لکھا ہے: ’مجھے سچ کا تو علم نہیں لیکن ’آپ‘ کا ایک مضبوط حامی ہونے کے ناطے میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ اچھا قدم نہیں ہے۔‘

پدماجا جوشی نے لکھا: ’یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن، آنند کمار اور اجیت جھا پر آخر کار بجلی گر ہی گئی۔ تو اب کھلا خط رک جائے گا؟‘

ابھیجیت مجمدار اپنے ٹوئٹر ہینڈل abhijitmajumder سے لکھتے ہیں: پرشانت بھوشن اور يوگیندر یادو کے جانے کے بعد آپ نے ریکارڈ ٹائم میں اپنی کور ٹیم کھو دی ہے۔ اب صرف ایک ہی شخص بچا ہے جس کے ارد گرد ہاں میں ہاں ملانے والے لوگ ہیں۔‘

اسی بارے میں