نیپال میں شدید زلزلے سے تباہی، کم از کم سو ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Sheelendra Shakya
Image caption نیپال میں 2011 میں بھی شدید زلزلہ آیا تھا

نیپال اور بھارت میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں اور مالی نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک سو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

نیپال کے وزیرِ اطلاعات میریندرا ریجال نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ زلزلے کے مرکز کے اردگرد کے علاقوں میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں جاننے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد خاصی زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ کھٹمنڈو میں بے شمار عمارتیں خستہ حال ہیں اور گنجان آباد تنگ گلیوں میں ہرگھر میں کئی افراد رہتے ہیں۔ سنہ 1934 میں نیپال میں 8.3 شدت کا جو زلزلہ آیا تھا اس میں تقریباّ دس ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق کھٹنڈو کے مرکزی ہسپتال میں زخمیوں کو مسلسل لایا جا رہا ہے جن میں سے کئی ایک کی ٹانگیں اور بازو ٹوٹے ہوئے ہیں، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ زلزلے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

نیپالی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ کھٹمنڈو شہر میں ایک قدیم تاریخی عمارت بھی منہدم ہوئی ہے جس میں خدشہ ہے کہ کم از کم 50 افراد پھنس گئے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویٹ سائٹس پر قدیم مندروں اور دیگر عمارتوں کی تباہی کی تصاویر جاری کی جارہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر سات اعشاریہ نو ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کا مرکز نیپال کے ضلع کاسکی کے ہیڈکواٹر پوکھرا کے مشرق میں 80 کلومیٹر دور کا علاقہ بتایا جاتا ہے۔

یہ علاقہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کے مغرب میں واقع ہے۔ سوشل میڈیا پر نیپال سے منہدم عمارتوں کی تصاویر ڈالی جا رہی ہیں تاہم نقصانات کی مجموعی تصاویر سامنے نہیں آئی ہے۔

نیپال کے ایئر پورٹ کو پروازوں کے لیے بند کر دیا گيا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sheelendra Shakya
Image caption نیپال کے علاوہ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے

نیپال ریڈیو نے لوگوں سے گھروں سے باہر رہنے کی اپیل کی ہے کیونکہ مزید جھٹکوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگ ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ایمبولینس کے سائرن کی آوازیں سنائی دے رہیں جبکہ سرکاری ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کر رہے ہیں۔

زلزلے کے جھٹکے پاکستان سمیت بنگلہ دیش اور بھارت میں بھی محسوس کیے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

دہلی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مرزا عبدالباقی کے مطابق شہر میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے۔

انھوں نے بتایا کہ نیپال سے ملحق بھارتی ریاستوں میں دو بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

’دہلی کے کناٹ پلیس میں لوگ اونچی عمارتوں کو چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئے، تاہم ابھی ابھی کسی جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات نہیں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

بھارتی رکن پارلیمان اور بی جے پی کے رہنما راجیو پڑتاپ روڈھی نے کہا ہے کہ بہار کے سیتا مڑھی ضلعے میں دو افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ بہار میں حفاظتی اقدام کے تحت بجلی کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلعے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ جبکہ بہار کے مغربی چمارن کے بیتیا شہر سے ایک شخص کے دیوار کی زد میں آجانے سے موت کی خبر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتی وزیر اعظم نے ٹوئیٹ میں امداد فراہم کرنے کی بات کہی ہے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ٹوئٹ میں بھارت اور نیپال میں متاثرین کی امداد کی بات کہی ہے۔

پاکستان کے میٹرولوجیکل آفس کے مطابق زلزلے کے جھٹکے آزاد کشمیر، گلگت بالتستان، پیشاور اور لاہور میں بھی محسوس کیے گئے۔