’اچھے کاموں پر بھارتی میڈيا نے پانی پھیر دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بھارتی میڈیا کو لگا کہ وہ ایک بڑے ملک سے آئے ہیں، وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں، انہیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اگر سوشل میڈیا لوگوں کے جذبات کا آئینہ ہے تو بھارتی میڈیاکے اچھے دن گزرگئے یا پھر یو سمجھ لیں کہ جانے والے ہیں۔

بھارتی میڈیا نے نیپال میں آنے والے زلزلے سے متعلق جس طرح کی رپورٹنگ کی ہے اس پر نیپال میں سخت ناراضی پائی جاتی ہےاور اتوار کے روز تو ٹوئٹر پر #GohomeIndianMedia ٹرینڈ کر رہا تھا۔

اس کے بعد پیر کو بھارتی میڈیا کے خلاف بھارت میں بھی اس وقت ناراضی محسوس کی گئی جب ٹوئٹر پر #DontComeBackIndianMedia

‎ ٹرینڈ کرنے لگا۔

بعض لوگوں نے ٹوئٹر پر لکھا ’بھارتی میڈیا کو نہ تو پڑوسی چاہتے ہیں اور نہ ہی خود وطن کے لوگ۔‘

ایک ناراض شخص نے ٹویٹ کیا ’ جہاں بھی جاؤ، لیکن ملک کو واپس مت آنا۔’ایک اور شخص نے ٹویٹ کیا ’خود کشی کر لومگر ملک کو واپس مت آنا۔‘

ناراضی کی وجہ

تو آخر نیپال میں بھارتی میڈیا پر اس قدر تنقید کی وجہ کیا ہے؟

نیپالی صحافیوں کے مطابق بھارتی حکومت کے امدادی کاموں پر ہندوستانی میڈیا کی بے حسی نے پانی پھیر دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارتی میڈیا نے مودی کے نام کی کچھ زیادہ ہی تسبیح پڑھ دی جسے نیپال کے لوگوں نے پسند نہیں کیا۔

نیپال میں بھارت کے علاوہ بھی تو کئی دوسرے ممالک امدادی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بی بی سی نے بھارتی میڈيا سے اس ناراضی کی وجوہات سے متعلق کھٹمنڈو میں تین سینیئر صحافیوں سی بات چیت کی۔اس میں صحافی سی کے لال، یوراج گھمرے اور بی بی سی نیپالی سروس کے مہیش آچاریہ نے حصہ لیا۔

کھٹمنڈو کے سینیئر صحافی سی کے لال کہتے ہیں کہ بھارتی میڈیا کے رویے سے’ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی فلم کی شوٹنگ کی رپورٹنگ کر رہے ہیں یا پھر یہاں کسی ٹی وی سیریل کی شوٹنگ چل رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا ’بھارتی میڈیا کو نیپال کی تاریخ، جغرافیہ اور یہاں کے قدرتی حالات کی معلومات نہیں ہے۔ وہ نیپال سے متعلق اپنی جہالت یا بیوقوفيوں کو علم کی طرح پیش کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں کے متوسط طبقے میں کچھ ناراضی پھیلنے لگی۔‘

سی کے لال نے بتایا کہ بھارتی میڈیا یہ کہنے لگا کہ مودی نیپال کے خیر خواہ ہیں جبکہ تمام ممالک کے لوگ امدادی کا کام کر رہے تھے۔ ’بھارتی میڈیا کو لگنے لگا کہ وہ ایک بہت بڑے ملک سے آئے ہیں اور وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں، انہیں کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔‘

’وہ اسے ایک چھوٹا ملک کہتے ہیں۔ یہ 3 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ملک ہے۔ دنیا کے چالیس یا پچاس بڑے ممالک میں نیپال کا شمار ہوتا ہے پھر بھی بھارتی میڈیا اسے ننھا ملک کہتا ہےاور لوگ یہ سب پسند نہیں کرتے۔‘

یوراج گھمرے، سینیئر صحافی، کھٹمنڈو

گھمرے کہتے ہیں ’اس بار بھارتی میڈیا نے اپنا توازن کھو دیا۔ حکومت کے کام کو کتنا اجاگر کرنا چاہیے، اور کتنی آزادی لینی چاہیے اس میں بھارتی میڈیا توازن نہیں پیدا کر سکا۔ ویسے بھی بھارت نیپال میں زیادہ مقبول نہیں ہے۔ اس کی وجہ بھارتی سفارت خانے کا نیپال کے اندرونی معاملات میں کھلے عام مداخلت کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’پاکستان کی حکومت کی جانب سے جب زلزلےکے متاثرین کے لیے بیف بھیجاگیا تو بھارتی میڈیا نے اسے بھی خوب اچھالا۔‘

مہیش آچاریہ، بی بی سی نیپالی سروس کے نامہ نگار

مہیش آچاریہ کہتے ہیں ’نیپال کے لوگوں کی جذبات یہ ہیں کہ بھارت نے جتنا کام نہیں کیا اس سے زیادہ بھارتی میڈیا نے اس کا ڈھنڈورا پیٹ دیا۔ بھارت کی مدد سے لوگ خوش ہیں اور اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں لیکن بھارتی میڈیا نے جس طرح سےزلزلے کا کوریج کیا ہے اس سے زیادہ تر لوگ ناراض ہیں۔‘

آچاریہ کہتے ہیں کہ بھارتی میڈیا پر سچ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بھی الزامات ہیں۔ ’نیپال کی میڈیا یہ مانتی ہے کہ حکومت ہند کے سارے اچھے کاموں پر ہندوستانی میڈیا نے پانی پھیر دیا۔‘