’نہیں جانتے کہ داؤد ابراہیم کہاں چھپا ہوا ہے‘

Image caption بھارتی حکومت کا الزام رہا ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے داؤد ابراہیم کو پناہ دے رکھی ہے

بھارتی وزارتِ داخلہ نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ ان کے پاس ممبئی میں جرائم کی دنیا کے سابق سرغنہ داؤد ابراہیم کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات نہیں اور جب تک اس بارے میں پتہ نہیں چلتا انھیں واپس لانے کی کارروائی شروع نہیں کی جا سکتی۔

بھارتی پولیس ایک طویل عرصے سے داؤد ابراہیم کو تلاش کر رہی ہے۔

وہ سنہ 1993 میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے معاملے میں پولیس کو مطلوب ہیں اور ان کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

ماضی میں بھارتی حکومت کا الزام رہا ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے داؤد ابراہیم کو پناہ دے رکھی ہے جبکہ پاکستان اس الزام سے انکار کرتا رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق داؤد ابراہیم کی حوالگی کے معاملے پر وزیرِ مملکت برائے امور داخلہ ہری بھائي چوہدری نے منگل کو لوک سبھا میں اپنے بیان میں کہا کہ داؤد کے بارے میں حکومت کے پاس معلومات نہیں ہے اور ان کا پتہ چلتے ہی حوالگی کا عمل شروع کیا جائے گا۔

لوک سبھا میں ایک تحریری سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی ان کے خلاف ایک خصوصی نوٹس جاری کیا ہے۔ اس شخص کے ٹھکانے کے بارے میں ابھی تک پتہ نہیں چل پایا ہے، جیسے ہی پتہ چلے گا، اسے بھارت لانے کی کارروائی شروع کی جائے گی۔‘

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار میں آنے سے پہلے کہا تھا کہ اگر وہ وزیر اعظم منتخب ہو گئے تو وہ بھارت کو مطلوب داؤد ابراہیم کو پاکستان سے بھارت لے کر آئیں گے۔

اس پر ردعمل میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا تھا کہ ’نریندر مودی کو پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ داؤد ابراہیم کہاں رہتا ہے اور پھر ان کو پاکستان پر حملے کا خواب دیکھنا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ پاکستان داؤد ابراہیم کی بیٹی کی سسرال ہے کیونکہ ان کی شادی پاکستان کے سابق سٹار کرکٹر جاوید میانداد کے بیٹے سے ہوئی ہے۔

اسی بارے میں