بھارت میں امتحان میں نقل کرنے پر پولیس افسر کی چھٹی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption پولیس افسر مسٹر جوس نے اپنے پر لگنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے سازش قرار دیا ہے

بھارت کی ریاست کیرالا کی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدے دار کو امتحان میں نقل کرنے کے الزامات کے بعد جبری رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔

کیرالا کے وزیر داخلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ امتحان میں نقل کرنے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

اطلاعات ہیں کہ ریاست کے انسپکٹر جنرل پولیس تھریشو جوس قانون کا امتحان دے رہے تھے اور نگران عملے کے مطابق کمرۂ امتحان میں اُن کے پاس سے نصابی کتب کی نقول برآمد ہوئی ہیں۔

بھارت میں امتحانات میں نقل کرنے پر سینکڑوں گرفتار

جوس نے خود پر لگنے والے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے سازش قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ یہ انھیں بدنام کرنے کی کوشش ہے۔

جوس نے بھارت کے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ’کسی نے مجھے نقل کرتے نہیں پکڑا، میرے پاس سے کوئی کاغذ نہیں ملا، پرچہ دس بجے شروع ہوا اور میں 12 بجے تک پرچہ مکمل کرنے کے بعد باہر نکل آیا۔ کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ میں نقل کر رہا تھا۔‘

تاہم انھوں نے تصدیق کی ہے کہ مبینہ طور پر نقل کرنے کے بارے میں اُن سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ نگران عملہ جو جوس کو جانتا نہیں تھا، اُس نے انھیں نقل کرتے ہوئے پکڑا اور عملے نے یونیورسٹی کے حکام کو بتایا کہ انھوں نے پولیس افسر کو نقل کرتے ہوئے پکڑا ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ معاملے کی فوری انکوائری کے بعد رپورٹ جمع کروائیں جبکہ یونیورسٹی نے بھی معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بھارت میں امتحانات میں نقل معمول کی بات ہے۔ رواں سال مارچ میں ریاست بہار میں پولیس میں بھرتی کے لیے منعقد ہونے والے امتحان میں ایک ہزار افراد کو نقل کرتے پکڑا گیا تھا۔

اسی بارے میں