ایران میں ’سپائیکی‘ بالوں پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption سپائیکی ہیئرسٹائل سے مراد کانٹوں جیسے کھڑے بالوں کا ایک خاص انداز ہے جو نوجوان ایرانیوں میں خاصا مقبول ہے

ایران میں حکام نے سپائیکی انداز میں بال ترشوانے اور ٹیٹو بنوانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سپائیکی ہیئرسٹائل سے مراد کانٹوں جیسے کھڑے بالوں کا ایک خاص انداز ہے، جو نوجوان ایرانیوں میں خاصا مقبول ہے لیکن حکام کی جانب سے اسے مغرب زدہ اور غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے۔

ایران کی حجام یونین کے سربراہ مصطفیٰ گواہی کا کہنا ہے: ’شیطان کی پرستش جیسے بالوں کا یہ انداز اب ممنوع ہے۔‘

مصطفیٰ گواہی نے تنبیہہ کی ہے کہ ’اگر کسی دکان پر شیطان کی پرستش والے انداز میں بال تراشے گئے تو اس کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے اور ان کا لائسنس ضبط کر لیا جائے گا۔‘

اگر کہیں پر ایسے انداز میں بال تراشے گئے تو وہ ’اسلامی نظام کے اصولوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔‘

سن بیڈ اور بھنویں اکھاڑنے کا رجحان بھی نوجوان ایرانیوں میں پنپ رہا ہے اور اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ایران کی حجام یونین نےسپائیک والے بال تراشنے اور دیگر خدمات پیش کرنے کا الزام غیر قانونی حجاموں پر عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں