جہاں صرف ایک مکان ہی باقی بچا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیپال کے لانگ ٹنگ گاؤں سب سے پہلے پہنچنے والوں میں بی بی سی کے نمائندے شامل تھے

نیپال میں آنے والے حالیہ زلزلے میں سب سے زیادہ متاثرہ قرار دیے جانے والے گاؤں میں پہنچنے والوں میں پہلے لوگوں میں ہم تھے اور میرے ہمراہ کیمرا مین سنجے گانگولی تھے۔

ہم دو برطانوی گورکھاؤں کے ساتھ ایک طرح کے مشاہداتی مشن پر تھے۔

صرف گذشتہ ہفتے تک لانگ ٹنگ نیپال کے مقبول ترین ٹریکنگ مقامات میں سے ایک تھا۔ اس گاؤں میں 435 افراد آباد تھے اور یہاں 55 ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس تھے جن میں سے صرف ایک عمارت باقی ہے۔

زلزلے سے یہاں برف اور مٹی کے تودے گرے اور پورا گاؤں برف اور پتھر کی چٹانوں تلے دب گیا۔

زلزلے کے پانچ دن بعد سیٹیلائٹ سے لی گئی تصویر میں دیکھا گیا کہ سات سو میٹر بلند پہاڑی گاؤں پر آ گری۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption زلزلہ ٹھیک لنچ کے وقت آیا تھا جب ٹریکنگ کرنے والے چائے ناشتے کے لیے گاؤں کے ریستوراں میں آتے ہیں

کٹھمنڈو میں بی بی سی نیپالی سروس کے لیے کام کرنے والے ایک ساتھی سریندر پھویال نے مجھے ایک تصویر دکھائی جو اس نے ستمبر میں ٹریکنگ کے دوران لی تھی۔

جب ہم نے اس تصویر کا ہیلی کاپٹر سے لی گئی اپنی تصویر سے موازنہ کیا تو بڑے پیمانے پر ہونے تباہی کا احساس ہوا۔

جب ہم وہاں پہنچے تو 52 لاشیں شکستہ پلاسٹک کی چادروں اور ترپالوں میں لپٹی ہوئی تھیں۔

میں ایک جذباتی انسان ہوں اور مجھے دہشت کے احساس پر قابو پانے کے لیے بہت جدو جہد کرنی پڑی۔

کم از کم گاؤں کے ایک شخص نے اپنے تمام اہل خانہ کو اس زلزلے میں کھو دیا تھا۔گاؤں والوں کے مطابق تقریباً 178 مقامی افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

Image caption پورا گاؤں برفانی اور مٹی کے تودوں تلے دب گیا

کسی کو معلوم نہیں کہ کتنے غیر ملکی سیاح ہلاک ہوئے ہیں۔

زلزلہ لنچ کے وقت آیا تھا جب ٹریکنگ کرنے والے چائے ناشتے کے لیے گاؤں کے ریستوراں میں آتے ہیں۔

ایک نیپالی افسر جو گاؤں والوں کو لاش نکالنے میں امداد فراہم کر رہے تھے ان کا خیال ہے کہ اس میں تقریباً ڈیڑھ سو ٹریکر ہلاک ہوئے ہوں گے۔

کم از کم ایک برطانوی شہری 23 سال میتھیو کراپیئٹ کے غائب ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن حکومت کا خیال ہے کہ وہاں کئی برطانوی ہوں گے۔

لانگ ٹنگ توجہ کا مرکز رہا اور وہاں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے دو سو سے زیادہ افراد کو نکالا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ phuyal
Image caption زلزلے سے قبل یہ بستی ہری بھری ہوا کرتی تھی

یہاں اس حادثے کی واضح یادیں موجود ہیں۔ جو لوگ وہاں ہیں ان کے پاس کھانے اور سر چھپانے کے لیے جگہ ہے لیکن وہ اپنے مردوں کو دفن کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں لاشوں کو لانگ ٹنگ سے وادی میں ایک اونچے مقام پر لانے کے لیے امداد چاہیے۔

ابھی ہم وہیں تھے کہ وہ ایک متاثرہ نوجوان سیاح خاتون کو لائے۔ امدادی ٹیم کا کہنا ہے کہ تمام لاشوں کو نکالنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں