کشمیر میں دستی بم کے حملے میں 14 افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مسلح حملوں کے واقعات جنوبی کشمیر میں بڑھ گئے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ شوپیان میں سنیچر کو نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس کی تفتیشی ٹیم پر پھینکے جانے والے دستی بم کے زد میں آنے سے خواتین اور بچوں سمیت 14 راہگیر زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی ایک تفتیشی ٹیم نجی ٹاٹا سومو میں عدالت کی طرف جا رہی تھی کہ نامعلوم سمت سے اس پر دستی بم پھینکا گیا۔

پولیس اہلکار اس واقعے میں محفوظ رہے ہیں لیکن ایک کم سن بچی اور خواتین سمیت 14 افراد زخمی ہوگئے۔

روبینا نامی اس بچی کی حالات نازک ہے اور اسے سری نگر کے ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

شوپیان میں پولیس کے اعلیٰ افسر الطاف خان کے مطابق اس حملے کی تفتیش شروع کی جارہی ہے اور حملہ آوروں کو تلاش کیا جا رہا ہے تاہم کسی بھی مسلح گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

گذشتہ ماہ بھی شوپیان میں ہی ایک مسلح حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مسلح حملوں کے واقعات جنوبی کشمیر میں بڑھ گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق گذشتہ برس تک مسلح حملے شمالی کشمیر میں ہوتے تھے کیونکہ شمالی کشمیر کے سبھی اضلاع پاکستان کے ساتھ ملحقہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہیں۔

کشمیری میں مسلح تشدد میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب یہاں کی نئی حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بالی وڈ کے فلم ستاروں اور فلم سازوں کو سرکاری مہمان کے طور پر کشمیر مدعو کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے خود ممبئی میں تمام فلم سازوں اور ستاروں کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا۔

واشو بھگنانی کی فلم ’ویلکم ٹو کراچی'‘ کا پروموش بھی کشمیر میں ہی کیا جا رہا ہے۔ سلمان خان بھی ’بجرنگی بھائی جان‘ کی شوٹنگ مکمل کرنے کے لیے دوبارہ کشمیر آ رہے ہیں۔

یہ فلم کشمیر میں شوٹ نہیں کی گئی لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ بالی وڑ کی کسی فلم کی تشہیر کشمیر میں کی جا رہی ہے۔

مسلح تشدد میں اضافہ سے حکومت کی سیاحتی پالیسی کو نقصان پہنچا ہے۔

امرناتھ گپھا کے درشن کرنے کے لیے موسم گرما میں لاکھوں یاتری پورے بھارت سے کشمیر آتے ہیں۔ ان کے لیے سفری سہولیات اور دیگر انتظامات مقامی انتظامیہ امرناتھ بورڑ کی ہدایت پر کرتی ہے۔

پولیس کے سربراہ کے راجندرا کا کہنا ہے کہ سیاحت اور یاترا کے حوالے سے پوری پولیس فورس اور فوج کے درمیان رابطوں کو بہتر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں