بھارتی عدلیہ کےسات تاریک ترین دن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تقریبا 18 سال کے بعد گذشتہ سال ستمبر میں عدالت نے تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے رام جےللیتا پر بدعنوانی ثابت ہونے پر چار سال قید کی سزا سنائی تھی

بھارت میں عدلیہ کے لیے یہ سات دن کافی مایوس کن رہے۔

تین علیحدہ علیحدہ مقدمات میں بڑے اور بااثر افراد پر عدالتوں نے فرد جرم عائد کیا لیکن عدالت میں اپیل کے بعد اُن کی ضمانت ہوگئی۔ عدالت نے ان دونوں بالی وڈ اداکار سلمان خان، سیاستدان اور سابق کاروباری شخصیات کو سزائیں سنائی۔

سلمان خان کو سڑک پر سوئے ہوئے شخص پر گاڑی چڑھانے کے جرم میں سزا ہوئی جبکہ خاتون سیاستدان کو بدعنوانی اور کاروباری شخصیت کو فراڈ اور دھوکہ دہی کے جرم میں سزا ہوئی۔

بھارت میں انصاف کا پہیہ سستی سے چل رہا ہے۔ عدالتوں میں تین کروڑ سے زیادہ مقدمات زیر سماعت ہیں اور اُن میں سے ایک چوتھائی مقدمات پرگذشتہ پانچ برسوں سے کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔

انصاف حاصل کرنے کا اس سست نظام کا فائدہ امیر افراد کو ہوتا ہے۔ وہ سیاسی دباؤ اور طاقت کی وجہ سے ججوں اور استغاثہ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ممبئی کی عدالت نے مقدمے میں ادکار سلمان خان کو پانچ سال قید کی سزا سنانے میں 13 سال لگائے لیکن عدالت سے اُن کی اپیل کے جواب میں ضمانت محض دو دن میں ہو گئی۔سلمان خان کے وکالت بھارت مہنگے ترین وکیل کر رہے تھے۔

بھارت میں رجسٹرڈ وکیلوں کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے لیکن اُن میں بہت زیادہ تعداد اُن وکیلوں کی بھی ہے جنھوں نے نام نہاد قانون کی ڈگری دینے والے اداروں سے تعلیم مکمل کی اور قانون بارے میں اُن کی سوجھ بوجھ بھی زیادہ اچھی نہیں ہے۔

کان گنز، سابق وکیل جو اب صحافی ہیں، کا کہنا ہے کہ ’یہ عدالتوں کے باہر فکسر( معاون) یا نوٹیری کا کام ہی کر سکتے ہیں۔‘

تقریباً 18 سال کے بعد گذشتہ سال ستمبر میں عدالت نے تامل ناڈو کی سابق وزیر اعلیٰ جے رام للیتا پر بدعنوانی ثابت ہونے کے بعد انھیں چار سال قید کی سزا سنائی لیکن سزا ہونے کے سات ماہ بعد اپیل سننے والی عدالت نے اُن پر عائد الزامات ختم کر دیے اور کہا کہ مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت نے اُن کی دولت تخمینہ لگانے میں مبالغہ آرائی سے کام لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ممبئی کی عدالت نے مقدمے میں ادکار سلمان خان کو پانچ سال قید کی سزا سنانے میں 13 سال لگائے

جے للیتا کے مقدمہ کی شفاف سماعت کے لیے اُن کا کیس تامل ناڈو سے ریاست کرناٹک منتقل کر دیا گیا لیکن یہ بھی کارگر ثابت نہ ہوا۔

اسی طرح سابق نواب اور مشہور کاروباری شخصیت راملینگا راجو کے خلاف دھوکہ دہی اور فراڈ کا مقدمہ تھا۔ عدالت میں اُن کا مقدمہ چھ برس تک چلتا رہا اور انھیں سات سال جیل کی سزا ہوئی لیکن 35 ماہ جیل میں رہنے کے بعد اپیل کی عدالت نے نہ صرف اُن کی ضمانت منظور کی بلکہ اُن کی سزا بھی معطل ہو گئی۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کی اعلیٰ عدالت ذیلی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتی رہی ہیں۔ کئی سیاستدان، رئیس اور معروف شخصیات مہنگے وکیلوں کے ذریعے اپنے پر عائد ہونے والے الزامات میں بری ہوئے ہیں۔

اسی کے ساتھ ساتھ کئی افراد کا ماننا ہے کہ حالیہ فیصلے بھارت کے غیر منصفانہ نظام عدل کے عکاس ہیں۔

بھارتی جیلوں میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جو معمولی جرائم میں سزا ہونے کے بعد قید ہیں اور ضمانتیں نہیں کروا سکتے۔ججوں پر اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ غریب کے خلاف ہی فیصلہ سناتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے جج راجیو دھاون نے ضمانتوں میں امتیازی سلوک کے حوالے سے بتایا کہ ’جتنی ضمانتیں ہوں اتنا اچھا ہے۔ہمارے پاس ضمانت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرنے کے حوالے سے واضح قانون یا اصول نہیں ہیں۔ بالخصوص فردِ جرم عائد ہونے کے بعد جج جرم میں غریبوں کو ہی قصوروار سمھجتے ہیں۔‘

عدالت کے حالیہ فیصلوں سے ایک بھارتی فلم یاد آ رہی ہے جس میں ملک کے فرسودہ اور امتیازی انصاف کے نظام کو دکھایا گیا۔

بھارت کو زیادہ ججوں کی ضرورت ہے۔ اچھے اور پڑے لکھے وکیلوں کی ضرورت ہے۔ اور تعلیمی نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے ٹوٹ پھوٹے اور قفل زدہ نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ نہیں تو عدالت کا مشکل اور گھمبیر نظام انصاف کے منتظر عوام کے لیے خود ایک سزا بن جائے اور یہ بات دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک کے شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔

اسی بارے میں