چین بھارت تعلقات: تعاون یا مسابقت؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماہرین کے مطابق خطے میں دونوں ملکوں کی اثر و رسوخ کی خاطر کشمکش جنوبی ایشیا کے تزویراتی نقشے کو نیا روپ دے گی

14مئی کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا تین روزہ دورۂ چین ایشیا کی دو طاقتور قوموں کو تعاون کی نئی راہیں کھولنے میں مدد دینے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد 1954 میں بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کی بنیاد پر رکھی گئی تھی جس میں ایک دوسرے کی آزادی اور سالمیت کا احترام، عدم جارحیت کا عزم، بقائے باہمی اور داخلی امور میں مداخلت سے اجتناب شامل تھے۔

دہلی میں متعین چینی سفیر لی یو چنگ نے ایک حالیہ خطاب میں بھارت چین تعلقات کے کئی نئے باب رقم کرنے کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ علاقائی سلامتی کے تیزی سے بدلتے رجحانات کے پیش نظر نئے رویے اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا کو روایتی خطرات سے بڑھ کر اب غیر روایتی خطرات کا زیادہ سامنا ہے۔ سلامتی کے مسائل ایک ملک کی اندرونی حدود تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک وسیع تر خطے کو متاثر کرتے ہیں کیونکہ سلامتی کو در پیش خطرات پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے جا رہے ہیں لہٰذا ان کا موثر مقابلہ کرنے کے لیے حفاظتی اور جوابی تدابیر کو اجتماعی اور مشترکہ شکل دینا ضروری ہوتا جا رہا ہے جو ایک دوسرے پر منحصر ہوں گی۔

چینی سفیر لی یو چنگ کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک اب ایسے خطرات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے جن کا بھارت و چین دونوں کو یکساں سامنا ہے، جیسا کہ فرقہ واریت، تشدد، بد امنی اور دہشت گردی۔ ایسے مسائل سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی نئی راہوں کی دریافت دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے بھارت چین تعلقات کے ضمن میں پانچ اصولوں کی بات کی ہے، ان میں باہمی رابطے اور مفاہمت کا فروغ، ہم آہنگی اور یگانگت کے ذریعے عالمی مسائل میں موثر و مثبت کردار، ایک دوسرے کی بنیادی کمزوریوں اور مسائل کو رعایت دینا اور باہمی مسائل کو افہام و تفہیم سے حل کرنا شامل ہیں۔

بھارت کے سابق اعلیٰ مشیر سنجے باڑو کے مطابق بھارتی قیادت کی جانب سے چین کو مثبت جواب میں یہ کہا گیا ہے کہ دنیا میں فراواں مواقع موجود ہیں کہ دونوں ممالک آگے بڑھنے کی خواہش پوری کر سکیں۔ سرحدی امور پر اختلافات کا مشترکہ مفادات کے اصولوں پر حل بھارت چین تعلقات میں ارادے اور صلاحیتوں کے لیے ایک اہم کسوٹی ثابت ہوسکتی ہے۔

چینی سفارت کاروں کا بھارت کو ایک پیغام یہ بھی ہے کہ کوئی ملک خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہوجائے سلامتی کے تمام مسائل کو تنہا حل نہیں کرسکتا، لہٰذا ایسی راہیں ڈھونڈنی چاہییں جو سب کی سلامتی کی ضامن بن سکیں۔

بھارت کے نیشنل ڈیفنس کالج میں بھارتی افواج کے افسران سے اپنے حالیہ خطاب میں چینی سفیر لی یو چنگ نے مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کے فروغ، باہمی تعاون کے لیے امکانات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ خلیج عدن میں مشترکہ بحری نگرانی سمندری تجارت کو سب کے لیے محفوظ رکھے گی۔

اپنی امن پسندی کے ذریعے چین اور عدم تشدد کے علم بردار کی حیثیت سے بھارت علاقائی امن اور بقائے باہمی کو ایک نئی سطح تک لے جا سکتے ہیں، خوراک کے عالمی ذخائر میں اضافے، بین الملکی جرائم کی روک تھام اور محفوظ ماحولیات کی بہتری کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ اقدامات دنیا کو بہتر امن اور مزید سلامتی دلانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت چین تعلقات میں تعاون اور مسابقت دونوں پہلو شامل رہیں گے اور معدنی ذخائر، محفوظ توانائی، اور مزید تجارتی منڈیوں کے حصول کے لیے دونوں ملکوں میں دوڑ جاری رہے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چینی صدر شی جن پنگ نے گذشتہ برس بھارت کا دورہ کیا تھا

کنگز کالج لندن کے پروفیسر ہرش پنت کہتے ہیں کہ خطے میں دونوں ملکوں کی اثر و رسوخ کی خاطر کشمکش جنوبی ایشیا کے تزویراتی (strategic) نقشے کو نیا روپ دے گی۔ تجارت و معیشت میں بھارت کے محتاط رویے اور دھیمی رفتار نے چین کو جہاں کہیں آگے بڑھنے کا کھلا موقع فراہم کیا جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

سنجے باڑو کہتے ہیں کہ اب ہر جنوبی ایشیائی ملک میں چین کا رسوخ ایک مسلمہ حقیقت ہے کیونکہ اس نے اپنی حکمت عملی کو موثر بنانے کے لیے سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبے کے کسی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہ دیا جبکہ اس دوڑ میں بھارت کی رفتار سست رہی۔

جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت میں توسیع چین کی وسیع تر منڈیوں کی تلاش کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ چین زیادہ تیزی کے ساتھ ابھرتی معیشتوں میں جو سرمایہ کاری کر رہا ہے وہ اس کے معاشی مفاد کے حصول کی خاطر ہے۔ وسیع تعمیراتی منصوبے، جن میں سے چند خواہ سفارتی ضروریات کے لیے شروع کیے گئے ہوں، چینی کمپنیوں کے لیے فائدہ مند ہیں۔

بین الاقوامی امور میں اہم تر مقام پانے کے لیے چین جنوبی ایشیا میں سفارتی معاشی شراکت بڑھا رہا ہے اور ساتھ اپنی سفارت کاری بھی۔ دوسرے ممالک میں سڑکوں، بندرگاہوں کی تعمیر کے ذریعے چین اپنے رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے۔

اسی بارے میں