خلیج فارس سے گزرنے والے جہاز پر ایران کی ’انتباہی فائرنگ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران نے 28 اپریل کو جزائر مارشل جانے والے مال بردار بحری جہاز جس میں عملے کے 24 ارکان سوار تھے کو راستے میں روک لیا تھا۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق ایران کی مسلح جنگی کشتیوں نے خلیج فارس سے گزرنے والے مال بردار جہاز کو خبردار کرنے کے لیے اس پر گولیاں برسائیں۔

خیال رہے کہ حالیہ ہفتوں میں یہ اس قسم کا دوسرا واقعہ ہے۔

گارگو جہاز ایران کے قبضے میں

مال بردار بحری جہاز جس پر سنگا پور کا جھنڈا لہرا رہا تھا کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بین القوامی پانیوں سے گزر رہا تھا۔

جہازوں کے انتظامی امور سے متعلق فرم کا کہنا ہے کہ جہاز کو محفوظ انداز میں متحدہ عرب امارات کی جانب موڑ دیا گیا۔

ایران نے جمعرات کو انتباہ کرنے کے لیے فائرنگ کی جبکہ گذشتہ ماہ ایران نے ایک جہاز کو اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایرانی کوسٹ گارڈز نے ’ایلپائن اٹرنٹی‘ جو کہ تیل اور کیمیکلز کے ٹینکرز پر مشتمل مال بردار جہاز ہوتا ہے کو نشانہ کیوں بنایا۔

تہران کا موقف ہے کہ اس نے اس سے قبل ’میرسک ٹائگرس‘ نامی ایرانی کمپنی کے جہاز کو اس وجہ سے پکڑا کیونکہ اس کے اور ڈنمارک کی کمپنی کے درمیان ایک قانونی جھگڑا چل رہا تھا۔

تاہم اس مال بردار جہاز کو گذشتہ ہفتے چھوڑ دیا گیا تھا۔

ایران کی پیٹرولنگ کشتیوں نے 28 اپریل کو جزائر مارشل جانے والے اس مال بردار بحری جہاز کو، جس میں عملے کے 24 ارکان سوار تھے، راستے میں روک لیا تھا۔

اس صورتحال کی وجہ سے امریکی بحریہ نے ابنائے ہرمز سے گزرنے والے نجی جہازوں پر اپنے جھنڈے لہرانے شروع کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر کی ضروریات کا 20 فیصد تیل ہر روز خلیج فارس کے راستے سے گزرتا ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکی صدر براک اوباما خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب کو ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے ساتھ کی جانے والی ڈیل پر اعتماد میں لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں