’معاشی شیر‘ سے بھارت کی توقعات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چینی فوجی دستوں نے حال ہی میں ماسکو میں ایک مارچ میں بھی حصہ لیاہے

بھارتی وزیِرِاعظم نریندر مودی ایک ایسے وقت چین پہنچے ہیں جب ان کے میزبان ایشیا کے نقشے کو بدلنے کے ایک بہت بڑے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں بڑی تندھی سے مصروف ہیں۔

چینی وزیرِ خارجہ اس منصوبے کو ایک ’چینی گردباد‘ سے تعبیر کرتے ہیں جس نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جبکہ صدر شی جنگ پنگ اس حوالے سے ’چینی دورِ نو‘ کے خواب کی باتیں کر رہے ہیں۔

چین کے ان بڑے خوابوں کو بیجنگ میں جن سادہ الفاظ میں بیان کیا جاتا ہے وہ ہیں ’خطے کے ممالک کے درمیان مکمل ربط‘۔

یعنی چین سرمایہ کاری، تجارت، سفارت کاری اور مالیات کو استعمال کرتے ہوئے ایشیا میں ذرائع آمدو رفت اور اداروں کا ایک ایسا جال بچھانا چاہتا ہے جس میں ہر ایک پالسیی ہر آنے والے منصوبے کو اس طرح تقویت دے کہ پورا خطہ چین کی باہوں میں سمٹ آئے۔

صدر شی کہتے ہیں چین ایک ’پرامن، ملسنار اور مہذب شیر‘ ہے۔

لیکن کون بےقوف ایسا ہوگا جو شیر کے پنجرے میں اتر جائے اور اس کے ہاتھ میں کوئی ہتھیار بھی نہ ہو۔‘

جس امتحان کا سامنا بھارتی وزیرِاعظم کو ہے وہ اس سے مختلف نہیں جس کا سامنا چین کے دیگر ہمسائیوں کو ہے، یعنی ایک سلجھے ہوئے شیر کے ساتھ بیٹھ کر مشترکہ مفادات پر کام کرنا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھنا کہ اگر شیر غصے میں آ گیا تو پھر کیا ہوگا۔

اس یقین کے ساتھ کہ اب چین کی ترقی کا راستہ کوئی نہیں روک سکتا، صدر شی اور ان کے رفقاء اس خارجہ پالسیی کو ترک کر چکے ہیں جس پر چینی حکومت گذشتہ تین دھائیوں سے عمل پیرا تھی، یعنی ’چُپ چاپ اچھے وقت کا انتظار کرو اور اپنی صلاحیتوں کو دنیا سے چُھپائے رکھو۔‘

چینی رہنما جس ’چینی بگولے‘ کی بات کر رہے ہیں اس کی بنیاد چار ٹریلین ڈالر کی وہ خطیر رقم ہے جو چین نے فارن ایکسچینج کی مد میں کما رکھی ہے۔

حال ہی میں وجود میں آنے والا ’ایشیئن انفراسٹرکچر بینک‘ اور چین کی سربراہی میں بننے والے دیگر مالیاتی ادارے آئندہ برسوں میں سبک رفتار ریل گاڑیوں، ایندھن کی پائپ لائینوں، سڑکوں، بندرگاہوں اور صنعتی پارکوں پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

بھارت کی خواہش ہوگی کہ وہ چین کی سرمائے اور منصوبوں کی تعمیر میں اُس کی مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

دی ایشئن انفراسٹرکچر بینک

24 اکتوبر سنہ 2014 کو ایشیا کے 21 ممالک نے ایک ایسی یادداشت پر دستخط کر دیے تھے جس کے تحت چین کی سربراہی میں ایک بینک بنایا جائے گا جس کا صدر دفتر بیجنگ میں ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت کی خواہش ہوگی کہ وہ چین کی سرمائے اور منصوبوں کی تعمیر میں اُس کی مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھائے۔

توقع ہے کہ اس بینک کی تکمیل سنہ 2015 کے آخر تک ہو جائےگی اور یہ ادارہ ایشیا میں ایسے منصوبوں کے لیے سرمایہ فراہم کرے گا جن کے تحت نئی سڑکیں، بندرگاہیں، ریل کی پٹریاں اور ذرائع آمد ورفت کے دیگر وسائل تعمیر کیے جائے گے۔ 15 اپریل 2015 تک اس بینک کی بانی رکنیت کے لیے 57 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن میں 37 ایشیا سے آئیں جبکہ 20 ممالک ایسے ہیں جو خطے سے باہر ہیں۔

خطے سے باہر سے آنے والی درخواستوں میں آسٹریا، برازیل، ڈنمارک، مصر، فرانس، جرمنی، آئس لینڈ، اٹلی، لگسمبرگ، مالٹا، ہالینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، جنوبی افریقہ، سپین، سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں۔

ہنی مون ختم

گذشتہ ستمبر میں صدر شی جب انڈیا گئے تھے تو اس وقت مسٹر مودی کو اقتدار سنبھالے صرف چار ماہ ہوئے تھے۔ اس لیے دونوں کی اس وقت کی ملاقات اور گپ شپ کو ایک نئے رشتے کا ہنی مون کہنا غلط نہ ہوگا۔

اس ہنی مون میں دونوں نے معاشی تعاون کے کئی منصوبوں کا اعلان کیا جن میں چین کی جانب سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی شامل تھی۔

آٹھ ماہ گزرنے کے بعد اگر دیکھا جائے تو ان منصوبوں پر پیشرفت سست رہی ہے۔

چینی سرمایہ کاروں کو شکایت ہے کہ اس تاخیر کی وجہ بھارت کا سرخ فیتہ ہے جبکہ بھارتی برآمدکندگان کہتے ہیں کہ چین کا درآمدات کا نظام رکاٹوں کا شکار ہے۔

اگرچہ بھارت کی شرح نمو میں اضافہ ہو رہا اور چین کی شرح نمو کم ہوتی جا رہی ہے، لیکن بھارت کی معیشت کا حجم چینی معیشت سے بہت ہی کم ہے اور بھارت ان کئی ممالک میں سے ایک ہے جو اپنے ہاں چینی سرمایہ کاری کے لیے آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسٹر مودی بھارت کی تیز معاشی ترقی کی نوید سناتے رہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو بھارت کی جانب متوجہ کرنے کے لیے ’میک اِن انڈیا‘ کا نعرہ بھی لگاتے رہے، لیکن چینی سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں زمینی حقائق میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔

لیکن دوسری جانب ’چینی گردباد‘ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور دن بدن طاقتور ہوتا جا رہا ہے۔

بھارت کے شمال میں ’شاہراہِ ریشم کی معاشی راہداری‘ کے منصوبے کے تحت چین کے پاس ذرائع آمدورفت، تجارت اورسٹریٹیجک اثاثوں کا ایک ایسا جال بنانے کا منصوبہ ہے جس کا سلسلہ وسطی ایشیائی ممالک تک پھیلا ہوگا۔ دوسری جانب بھارت کے جنوب میں چین کا منصوبہ یہ ہے کہ وہ اپنی ’ساحلی شاہراہِ ریشم‘ کو بحرِہند کے دوسرے کنارے تک لے جائے گا۔

دیکھتے ہی دیکھتے سری لنکا، مالدیپ اور سیشیلز میں چین بہت زیادہ سرمایہ کاری کر چکا ہے۔

اسی طرح وہ نیپال اور بھوٹان میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے جو روایتی طور پر بھارت کے حلقۂ اثر میں رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چینی وزیرِ خارجہ اس منصوبے کو ایک ’چینی گردباد‘ سے تعبیر کرتے ہیں

اس کے علاوہ چینی صدر گزشتہ ماہ پاکستان کا دورہ بھی کر چکے ہیں جہاں انھوں نے سڑکوں، ریلوے اور توانائی کے منصبوں میں 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان ایک ایسی سٹریٹیجک شراکت داری کی نوید بھی سنائی جو بدلتے موسموں سے متاثر نہیں ہوگی۔

اسی لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ بھارت میں سکیورٹی کے تجزیہ کار شکایت کر رہے ہیں بھارت کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔کون تنگ کر رہا یہ گھیرا؟

لیکن بھارت بھی دفاعی حکمت عملی کا بڑا کھیل کھیل رہا ہے۔

چین آنے سے بہت پہلے مسٹر مودی جاپان کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

اس پر چین کے ایک سرکاری اخبار نے تمتلا کر لکھا تھا کہ ’جاپانی رہنما مسٹر مودی سے مل کر یقیناً خوش ہوں گے کہ اب دونوں مملک اکٹھے ہو کر چین کو لگام ڈالیں گے۔‘

’لیکن مودی کی نظر صرف جاپانی ٹیکنالوجی اور جاپانی سرمایہ کاری پر ہے۔ بھارت اور جاپان اس شادی شدہ جوڑے کی مانند ہیں جو سوتا تو ایک بستر پر ہے لیکن دونوں کے خواب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔‘

جاپان کے دورے کے چار ماہ بعد مسٹر مودی نے امریکی صدر براک اوباما کو دعوت دی کہ وہ بھارت کے یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کریں۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں ’ایشیائی بحرالکاہل اور بحیرہ ہند میں دفاعی مقاصد‘ کے منصوبے کا اعلان کیا جس میں چین کے بارے میں ایسی سطریں شامل تھیں جن کا تعلق ان سمندروں میں سکیورٹی کی اہمیت اور ساؤتھ چائنا کے پانیوں میں آزادانہ آمدو رفت کی ضمانت سے تھا۔ اس کے علاوہ اس بیان میں یہ بھی شامل تھا کہ تمام فریق ان پانیوں میں ’طاقت کے استعمال اور اس قسم کی دھمکی‘ سے گریز کریں گے۔

اور یہی وہ بات ہے جو مسٹر مودی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

خطے میں چین کی دفاعی حکمت عملی کا محور یہ ہے کہ یہاں کس طرح امریکی اثر ورسوخ کو کمزور کیا جا سکتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے چین اپنی معاشی طاقت کو کیسے بروئے کار لا سکتا ہے۔

پچھلے سال صدر شی نے کہا تھا کہ ’یہ حق ایشیا کے لوگوں کا ہے کہ وہ ایشیا کے معاملات کو کیسے چلانا چاہتے ہیں۔‘

جب تک امریکہ چین کے ساتھ لین دین جاری رکھتا ہے اور چین مغربی بحرالکاہل میں امریکہ کی موجودگی پر اعتراض نہیں کرتا، اس وقت تک بھارت اور خطے کی دوسری طاقتیں چین اور امریکہ دونوں سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ معاشی تعاون کے لیے یہ ممالک چین کے ساتھ تعلقات بنا سکتے ہیں اور سکیورٹی کے لیے امریکہ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

لیکن اگر امریکہ اور چین کُھلے بندوں ایک دوسرے سے مقابلہ بازی پر اتر آتے ہیں تو خطے کے ہر ملک کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جائے گا کہ وہ چین کا ساتھ دے یا امریکہ کا۔

تاریخ سے جڑے تنازعات

جن ہمسائیوں کے ساتھ چین کے سرحدی نوعیت کے تنازعات نہیں ہیں وہ تو ان خدشات کو ذہن سے نکال سکتے ہیں لیکن بھارت ایسا نہیں کر سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لداخ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں متنازع علاقہ ہے

بیجنگ اور دہلی کے درمیان گذشتہ ایک دہائی میں سرحدوں کے تنازع کو حل کرنے کے مذاکرات کے اٹھارہ دور ہو چکے ہیں لیکن وہ کسی حل پر پہنچنے میں ناکام رہے اور اسی تنازع کی وجہ سے ان کے درمیان سنہ 1962 میں جنگ بھی ہوئی تھی۔ لداخ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں متنازع علاقہ ہے اور گزشتہ سال ستمبر میں بھی صدر شی کے دورہ بھارت سے پہلے اس علاقے میں چینی فوج کے گھس آنے سے کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

اچھی بات یہ ہے کہ اب یہ معاملہ بھڑکتے ہوئے الاؤ سے سمٹ کر ایک چنگاری بن گیا ہے۔

جاپان، فلپائن اور ویتنام سے سرحدوں کے اختلاف پر چین کی سخت گیر پالیسی کے برعکس بھارت کے ساتھ سرحدی تنازع پر اس کا لہجہ بہت نرم ہے اور اسے چین نے تاریخ پر چھوڑ دیا ہے۔

کم از کم فی الحال چین اس معاملے پر ایک ایسے ہمسائے کے ساتھ جس سے تعلقات تعاون اور مسابقت میں تیزی سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں، لچکدار رویہ اختیار کیے ہوئے نظر آتا ہے۔

چین کے وزیر اعظم لی کی یانگ نے کہا تھا کہ بھارت اور چین کی کل آبادی دنیا کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہے اور’جب ہم بات کریں گے تو پوری دنیا سنے گی۔‘

اس ہفتے ہونے والے سربراہ اجلاس میں دونوں رہنما نہ صرف یک زبان ہو کر ’یوگا‘ اور ’تھائی چی، کے فوائد گنوائیں گے بلکہ دونوں اپنی قدیم تہذیب اور بدھ مت کی مشترکہ وراثت کے گُن بھی گائیں گے۔

لیکن جب یہ گرمجوشی ٹھنڈی پڑ جائے گی اور جام سے جام ٹکرائے جا چکے ہوں گے تو ایشیا کے ان دو ملکوں کے سامنے یہ سوال کھڑا ہوگا کہ آیا وہ مستقبل کا تعین کرنے والے اہم معاملات پر بھی یک زبان ہو سکتے ہیں؟

اسی بارے میں