چینی میڈیا میں مودی کی آمد پر محتاط رائے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نریندر مودی کی جاپان، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سفارتی سرگرمیوں کو چین میں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے

چین کے تجزیہ کاروں اور اخباروں نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے چین کے دورے پر محتاط رائے کا اظہار کیا ہے۔

نریندر مودی نے تین دن کا دورہ چینی صدر شی جن پنگ کے آبائی شہر ژیان سے شروع کیا۔

گذشتہ سال بھارت کے دورے پر چینی صدر مودی کی آبائی ریاست گجرات تشریف لائے تھے اور بھارتی وزیراعظم کے چین کے دورے کے آغاز کے لیے ژیان کے انتخاب کو اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ژیان کے بعد مودی شنگھائی اور بیجنگ کا بھی دورہ کر رہے ہیں۔

چینی اخبارات کی اکثریت بھارت اور چین کے درمیان قریبی تعلقات کی حامی ہے اور دونوں ملکوں کو اگلی صدی کے اقتصادی مستقبل کے حوالے سے ’قدرتی اتحادی’ کہا گیا ہے۔

تاہم کچھ اخبارات نے چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعے کی نشاندہی کی ہے اور اس کو دونوں ممالک کے مابین اصل مسئلہ قرار دیا ہے۔

چین اور بھارت کے درمیان چار ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے جو کئی مقامات پر پوری طرح واضح نہیں ہے اور سنہ 1962 میں دونوں ممالک نے اس مسئلے پر ایک مختصر جنگ بھی لڑی ہے۔

فودان یونیورسٹی سے منسلک سینیئر تجزیہ کار شن دنگلی نے ہانگ کانگ کمرشل ڈیلی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ سارے مسائل ایک دورے میں حل نہیں ہو سکتے۔

وہ بھارت کو کشادہ دل رکھنے کی تجویز دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھارتی حکام کو چین کے مختلف اعتراضات کو سمجھنا پڑے گا۔

ان میں سے ایک بڑا مسئلہ بھارتی ریاست آرونچل پردیش کا ہے جس کو چین تبت کا حصہ سمجھتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چین کو بھی اب ایک زیادہ حقیقت پسند رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور اسے بھارت کی جوہری صلاحیت کو تسلیم کرنا ہوگا۔

نریندر مودی کی جاپان، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سفارتی سرگرمیوں کو چین میں شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم مشرق بعید کے ممالک سے بھی بہتر معاشی اور ثقافتی تعلقات کی تلاش میں ہیں جن کو روایتی طور پر چین کے قریب سمجھاگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت اور چین کو کو اگلی صدی کے اقتصادی مستقبل کے ہوالے سے ’قدرتی اتحادی’ کہا گیا ہے

شنگھائی میں انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل سائنسز کے ریسرچ فیلو ہو ژیانگ کہتے ہیں کہ بھارت کی ان ممالک سےتعلقات بہتر کرنے کی مہم چین سے مقابلہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔

’مودی سرحدی مسائل پر دغابازی کر رہے ہیں اور بھارت میں اپنی ساکھ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارتی اشرافیہ غرور کا شکار ہے اور ان کو اپنے جمہوری نظام پر زیادہ ہی فخر ہے۔‘

تاہم ان سارے تحفظات کے باوجود اعتماد کی فضا بھی بنتی دیکھائی دے رہی ہے۔

گلوبل ٹائمز اخبار کے بقول بھارت اور چین کا رشتہ سرحدی تنازع کا شکار ضرور رہا ہے لیکن بہتر معاشی تعلقات ایسے پیچیدا مسائل کا حل ہیں۔

پیپلز ڈیلی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اب چین کے بارے میں بہتر جذبات کا اظہار کر رہا ہے اور جبکہ یہ چین کی ترقی کی رفتار سے مایوس ہیں، یہ اب اس کے معاشی ماڈل سے سیکھنا بھی چاہتے ہیں۔‘

نریندر مودی کے چینی سوشل میڈیا ویب سائٹ ویبو پر اکاونٹ کھولنے کے فیصلے پر بھی خوب تبصرے ہو رہے ہیں۔

ویبو، کو اکثر چین کا ٹوئٹر کہا گیا ہے اور اس پر متعدد لوگوں نے بھارتی وزیراعظم کو سراہا ہے۔ ویبو پر مودی نے ایک پوسٹ میں کہا کہ ’چین کو غربت کے خاتمے کے لیے تیسری دنیا کے ممالک کی مدد کرنی ہو گی‘۔

اس پوسٹ کو بہت سے لوگوں نے سراہا لیکن سارے بیانات دوستانہ نہیں تھے۔ ایک شخص نے مودی کو لکھا کہ وہ بھی صاف گوئی کا مظاہرہ کریں اور ’چین کو جنوبی تبت واپس کر دیں‘۔

اسی بارے میں