پاکستان اور چین بھارت کے لیے ایک سفارتی چیلنج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی نے گذشتہ ایک سال میں جتنے غیر ملکی دورے کیے اتنے کسی دوسرے بھارتی وزیر اعظم نے نہیں کیے

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی سنیچر کو اپنا چین کا تین روزہ دورہ مکمل کر رہے ہیں۔ وہ یہاں سےمنگولیا اور جنوبی کوریا بھی جانے والے ہیں۔ اس دورے سےواپس آنےکے بعد وہ بنگلہ دیش کےدورے پرجائیں گے۔

وہ بھارت کے پہلےوزیرِاعظم ہیں جنھوں نے اپنےاقتدار کے پہلے برس میں اتنی بڑی تعداد میں غیر ملکی دورے کیے ہیں۔

گذشتہ برس وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد انھوں نے بھوٹان کا دورہ کیا، نیپال گئے، انھوں نے آسٹریلیا اور فجی کا دورہ کیا۔

وہ اس مدت میں سنگا پور، جرمنی، فرانس اور ماریشس بھی ہو آئے ہیں۔ انھوں نے جاپان، کینیڈا اورامریکہ کا بھی دورہ کیا۔

نریندر مودی کو وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی بین الاقوامی تعلقات میں خاصی دلچسپی رہی ہے۔ وہ بین الاقوامی محاذ پر اتنے سرگرم ہیں کہ وزیر خارجہ سشما سوراج کا کردار کہیں ’پس منظر‘ میں چلا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEAIndia
Image caption چین کے دورے میں 30 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے 30 سےزیادہ معاہدے ہوئے

نریندر مودی نے وزیر اعظم کےطور پر اپنی حلف برداری کی تقریب میں سارک رہنماؤں کو مدعو کر کے ایک زبردست سفارت کاری کا آغاز کیا تھا۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف دہلی آئے اور ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں زبردست تبدیلی آنے والی ہے لیکن چند مہینوں کے اندر پاکستان کے ہائی کمیشن سے علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں کی ملاقات پر بھارتی اعتراض کےبعد بات چیت بند ہو گئی اور تعلقات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔

برسوں کی بات چیت اور اعتماد سازی کے بعد تجارت اور آنے جانے کے سلسلےمیں جو اقدامات کیے گئے تھے انھیں بھی زک پہنچی۔

مودی کے اقتدار کے ایک برس پورے ہوتے ہوتے پاکستان سے بھارت کےتعلقات معلق ہیں۔ صورت حال یہ کہ بات چیت شروع کرنےکا بھی کوئی نقطۂ آغاز نہیں مل رہا ہے۔

اس مدت میں امریکہ سے بھارت کےتعلقات معمول پر آئے۔ سابقہ حکومت کے دوران ایک بھارتی سفارت کار کی گرفتاری سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی۔ آسٹریلیا اور جاپان سے بھارت کےاقتصادی تعلقات پہلے سےزیادہ مضبوط ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف دہلی آئے تو ایک لمحے کے لیے لگا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں زبردست تبدیلی آنے والی ہے لیکن تھوڑے دنوں بعد ہی بات چیت بند ہو گئی

چین کے دورے میں 30 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے 30 سےزیادہ معاہدے ہوئے۔ لیکن سرحدی تنازع پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی اور نہ اس طرح کےکوئی اشارے ملے کہ آنے والے دنوں میں اسے حل کرنے کے لیے کوئی جامع مذاکرات شروع کرنےکا کوئی ارادہ ہے۔ چین سے سرحدی تنازع بھارت کے لیے سفارتی اور عسکری چیلنج بنا رہےگا۔

پاکستان کو چھوڑ کر باقی پڑوسی ممالک سے بھارت کےتعلقات اس مدت میں بہتر ہوئے لیکن سب سے اہم سفارتی واقعہ جون کے وسط میں متوقع ہے جب وزیر اعظم نریندر مودی بنگلہ دیش کا دورہ کریں گے۔

ان کےاس دورے میں دونوں ملکوں کےدرمیان سرحدی زمینوں کے تبادلے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس معاہدے کی بھارتی پارلیمان منظوری دے چکی ہے۔ اس معاہدے سےسرحد پر تارکین وطن کے غیر قانونی داخلے پر قابو پانےمیں مدد ملے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مودی اور اوباما کے درمیان دوطرفہ ملاقات کو دنیا بھر میں انتہائی دلچسپی کے ساتھ دیکھا گيا

مودی نے اپنے اقتدار کے ایک برس میں جتنےغیر ممالک کےدورے کیے ہیں اتنے بھارت کے کسی دوسرے وزیرِ اعظم نے نہیں کیے۔ ان کےان دوروں سے سے ان ممالک سے تعلقات مستحکم کرنے میں یقیناً مدد ملی ہے اور ساتھ ہی مودی خود کو ایک اقتصادی اصلاح پسند رہنما کےطور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں۔

اسی بارے میں