بھارت اور چین کے درمیان 22 ارب ڈالر کے 21 تجارتی معاہدے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption چین اور بھات کے درمیان صنعتی شراکت سے دونوں ممالک کے افراد کو وسیع سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں گے: نریندر مودی

بھارت اور چین کے درمیان 22 ارب امریکی ڈالر کے 21 تجارتی معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں۔

یہ معاہدے قابل تجدید توانائی، بندرگاہوں کی ترقی، خزانہ اور صنعتی پارکوں سمیت کئی شعبوں میں کیے گئے۔

یہ معاہدے سنیچر کو شنگھائی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے چین کے تین روزہ سرکاری دورے کے آخری روز ہوئے۔

بھارت، چین بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا: ’ہم بھارت میں تجارت کرنے میں آسانیاں پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بھارت چینی صنعت کو تاریخی مواقع فراہم کر رہا ہے۔‘

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم مودی نے کہا ’چین اور بھات کے درمیان صنعتی شراکت سے دونوں ممالک کے افراد کو وسیع سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع حاصل ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نریندر مودی چین کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں

انھوں نے کہا: ’ایشیا کے سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے چین اور بھارت کے درمیان مربوط شراکت داری ضروری ہے۔‘

وزیر اعظم مودی نے کہا ’بھارت چین شراکت داری کا فروغ ہونا چاہیے۔‘

چین کے ساتھ بھارت کی سب سے زیادہ تجارت ہے جس کا حجم سنہ 2014 میں 71 ارب ڈالر رہا اور اب ان معاہدوں سے ان میں اضافے کا واضح امکان ہے۔

بھارت کے اعداد و شمار کے مطابق چین کے ساتھ بھارت کا تجارتی خسارہ سنہ 2014 میں بڑھ کر 38 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے جو کہ سنہ 2001 اور سنہ 2002 تک صرف ایک ارب ڈالر تک تھا۔

خیال رہے کہ چین کے اپنے تین روزہ دورے میں پہلے دن بھارتی وزیر اعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ان کے آبائی صوبے شانژی کے دارالحکومت ژیان میں ملاقات کی جبکہ دوسرے دن انھوں نے چینی وزیر اعظم لی کیکیانک سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان ریکارڈ 24 اہم باہمی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

چین اور بھارت کے تعلقات سرحدی تنازعے کی وجہ سے گذشتہ نصف صدی سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سنہ 1962 میں جنگ بھی ہو چکی ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم کے دورے میں چین کے بڑے نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ پر بھارت کا مختلف نقشہ دکھائے جانے کا مسئلہ طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے۔

سی سی ٹی وی نے اپنے ایک پروگرام میں بھارت کا جو نقشہ دکھایا ہے اس میں نہ تو اروناچل پردیش دکھایا گیا اور نہ ہی جموں وکشمیر۔

اسی بارے میں