روہتک کی بہنیں، کیا لڑائی کسی جگہ پہنچی ہے

روہت کی بہنیں تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بہنیں کہتی ہیں کہ تفتیش کے دوران ان سے بہت ذلت آمیز سوالات پوچھ گئے

چھ ماہ پہلے انڈیا میں ایک ویڈیو شہ سرخیوں میں رہی تھی جس میں دو بہنیں ان کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے والے تین مردوں کی ایک بس میں پٹائی کر رہی تھیں۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہوا کہ اس روز کیا ہوا تھا اور بہت سے سوالوں کے اب تک جواب نہیں ملے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار دیویا آریا نے اس کے متعلق مزید جاننے کے لیے روہتک کا سفر کیا ہے۔

28 نومبر کو 22 برس کی آرتی اور ان کی 19 سالہ بہن پوجا نے کالج سے گھر جانے کے لیے سرکاری بس پکڑی۔

بس کے سفر کے 40 سیکنڈ کی ویڈیو میں جو دیکھا جا سکتا ہے وہ یہ ہے۔ پوجا ایک شخص کو بیلٹ سے مار رہی ہے جبکہ اس شخص نے آرتی کا کالر پکڑا ہوا ہے۔ دوسرا آدمی تھوڑا تھوڑا اپنے دوست کے پیچھے کھڑا نظر آتا ہے۔ تیسرا بالکل نظر نہیں آتا اور وہ کس وقت اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل جاتا ہے اس کا بھی پتہ نہیں چلتا۔

تینوں افراد کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں پکڑ لیا گیا تھا مگر بعد میں انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

مقامی پولیس کے سربراہ ششانک آنند کا کہنا ہے کہ گواہوں کو لانے میں دیر اس لیے لگی کہ روڈ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ مسافروں کی فہرست نہیں رکھتا۔

’مسافروں کی شناخت کرنا ایک مشکل عمل تھا، جب ہم نے انھیں ڈھونڈ بھی لیا تب بھی کچھ ہی لوگ گواہی دینے کے لیے راضی ہوئے اور انھوں نے یہ بھی درخواست کی کہ ان کی شناخت کو صیغۂ راز میں ہی رکھا جائے۔‘

کیا بہنوں کے لیے کچھ بدلا بھی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ویڈیو میں بہنوں کو ایک شخص کی پٹائی کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا

ظاہری طور پر تو لگتا ہے کہ ان کی زندگیوں میں کچھ تبدیلی نہیں آئی، سوائے ان کے گھر کے سامنے پولیس والی چند خواتین کے جن کو ان کی حفاظت کے لیے مامور کیا گیا ہے۔

آرتی اور پوجا بظاہر پر سکون نظر آتی ہیں لیکن کچھ مختلف بھی ہے۔

پوجا کہتی ہے کہ اب اگر دوبارہ انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تو وہ نہیں لڑیں گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’تمام عمر ان کے والدین کے روتے ہوئے چہرے ان کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ ان کو پولیس والوں کی طرف سے ہمارے متعلق برے کلمات سننے پڑے ہیں اور ان پر مقدمے کو واپس لینے کا دباؤ بھی ڈالا گیا ہے۔‘

ان بہنوں کو ہیرو کہا گیا تھا لیکن کچھ ہی دنوں میں سب کچھ اس وقت بدل گیا جب انھیں ایک اور شخص کی پٹائی کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

آرتی کہتی ہیں کہ ’ہریانہ کی ریاستی حکومت نے ہماری بہادری کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے جس ایوارڈ کا اعلان کیا تھا وہ بھی منسوخ کر دیا گیا جس سے ہمارے اوپر اعتبار کم ہو گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’ہر کوئی ہمارے کردار پر سوال اٹھاتا ہے‘

’اب ہر کوئی ہمارے کردار پر سوال اٹھاتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم خود مصیبت تلاش کرتے ہیں اور لوگوں پر پیسے کے لیے حملہ کرتے ہیں۔ اصل مسئلہ عورتوں کے آواز اٹھانے کا ہے۔‘

دونوں بہنیں الزام لگاتی ہیں کہ جھوٹ کی شناخت کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ میں، جس کے لیے وہ خود راضی ہوئی تھیں، ان سے ان کی جنسی تاریخ کے متعلق ذلت آمیز سوالات پوچھے گئے۔ پولیس والے اس الزام پر بات نہیں کرنا چاہتے۔

ملزم کہاں ہیں؟

20 سالہ مرکزی ملزم کلدیپ بہت نرم لہجے میں بولتے ہیں اور میرے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے مجھ سے آنکھیں چراتے رہے۔

’جب میں پوچھا کہ کیا آپکے دوست آپ کو چھیڑتے ہیں کہ عورتوں سے مار کھا گئے تو انھوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔‘

دوسرا ملزم دیپک ذرا زیادہ بولنے والا ہے۔ ’ہمارے علاقے یا اس بس کے روٹ پر کوئی کسی کو جنسی طور پر ہراساں نہیں کرتا۔ اس دوپہر کچھ نہیں ہوا تھا، وہ عورتیں بس کھڑی ہو گئیں اور کلدیپ کو مارنا شروع کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’پولیس کو اب تک کچھ کرنا چاہیے تھا‘

ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس کو اب تک کچھ کرنا چاہیے تھا، ہمارے ذہنوں میں سکون نہیں ہے اور لگاتار دباؤ رہتا ہے، خصوصاً ہمارے کیریرز کے متعلق۔‘

کلدیپ اور دیپک نے فوج میں شمولیت کا ابتدائی ٹیسٹ پاس کر لیا تھا، لیکن جب ان پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگا تو انھیں آخری امتحان میں بیٹھنے سے منع کر دیا گیا۔ اگلے دو برسوں میں وہ اس امتحان کے لیے زیادہ سے زیادہ عمر کی حد پار کر جائیں گے۔

کلدیپ کہتے ہیں کہ ’ہمارا پورا گاؤں ہماری حمایت کر رہا ہے اور یہ ایک بڑے سکھ کی بات ہے۔ ورنہ آج کل تو ہر جگہ صرف خواتین کی ہی بات سنی جاتی ہے۔‘

کیا ویڈیو کا گاؤں والوں پر کوئی اثر پڑا ہے؟

آرتی اور پوجا کا ذرا سا بھی ذکر کرنے سے گاؤں میں بہت سے مرد آہستہ آہستہ ہنسنا شروع کر دیتے ہیں اور اس بات پر بھی اتفاقِ رائے ہے کہ واقعے کے دوران کون غلطی پر تھا۔

ایک بوڑھے مرد کا کہنا تھا کہ ’اگر لڑکیاں لڑکوں کو اس طرح مارنا شروع کر دیں گی تو سب لڑکے مر جائیں گے، تو اس کے بعد لڑکیاں کیا کریں گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عورتوں میں بہنوں کے متعلق ملا جلا ردِ عمل ہے۔ کچھ کہتی ہیں کہ ٹھیک کیا جبکہ کچھ اسے مناسب نہیں سمجھتیں

عورتیں اپنے لیے لڑنے کی حمایت کرتی ہیں۔ ہریانہ انڈیا میں اس طرح کے واقعات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔

درمیانی عمر کی کچھ عورتوں کے گروہ نے ہنسنا شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے ویڈیو تو نہیں دیکھی، لیکن سنا ہے کہ بہنوں نے اپنی چمڑے کی بیلٹ کو کوڑے کی طرح استعمال کیا ہے۔ یہ زبردست ہے۔‘

لیکن یہ کوئی قید و بند سے آزاد حمایت نہیں ہے۔

جنسی طور پر ہراساں کرنا یا لڑکیوں کو تنگ کرنا ’نارمل‘ سمجھا جاتا ہے اور کسی حد تک اسے قبول بھی کیا جاتا ہے۔

ایک عورت نے کہا کہ ’انھوں نے ایسا کیوں کیا؟ کئی لڑکیاں بسوں میں سفر کرتی ہیں، وہ تو لڑکوں کو نہیں مارتی پھرتیں۔‘

آرتی اور پوجا کے کالج میں لڑکیاں انھیں ’ہیروئنیں‘ مانتی ہیں۔

ایک طلبہ کہتی ہیں کہ ’کون ردِ عمل ظاہر کرنا نہیں چاہتا؟ ہمیں روزانہ ان حرکات کا سامنا رہتا ہے، لیکن ہمیں صبر کرنا چاہیے۔ اگر ہمیں پتہ چل جائے کہ ہمارے والدین بھی ہماری اس طرح حمایت کریں گے جس طرح ان بہنوں کے والدین نے کی ہے تو ہم بھی لڑائی کرنے سے نہیں گبھرائیں گی۔‘

اسی بارے میں