چین میزائل پروگرام کو جدید بنانے کی راہ پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں اضافے کے ساتھ اپنے جوہری صلاحیتوں میں زیادہ اضافہ نہیں کیا ہے

چین نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو کئی عشروں تک محدود رکھنے کے بعد اب ترقی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چین کے عزائم کے نتیجے میں ایشیا میں نہ صرف غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہو گا بلکہ خطے میں ہتھیار حاصل کرنے کی دوڑ میں اضافے کا سبب بنے گا۔

چین نے اپنی فوج کو بین الابراعظمی بیلسٹک میزائل ڈی ایف فائیو ڈونگ فینگ یا ایسٹ ونڈ سے مسلح کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ میزائل امریکہ تک مار کر سکتا ہے اور یہ صرف ایک کی بجائے ایک ساتھ کئی ہتھیار لے جانے کی جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع نے چین کی عسکری اور سکیورٹی منصوبوں کے بارے میں اپنی رپورٹ میں پہلی بار اس میزائل کے بارے میں بتایا ہے۔

امریکہ اس میزائل ٹیکنالوجی کا بانی ہے اور اس نے سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے دونوں میں یہ ’ایم آئی آر وی‘ میزائل بنائے تھے۔ اس میزائل پر ایک ساتھ دس تک ہتھیار نصب کیے جا سکتے ہیں اور ان میں سے ہر ہتھیار مختلف ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

لیکن جن ممالک کے پاس یہ میزائل ہوں وہ زیادہ غیر محفوظ ہو جاتے ہیں کیونکہ دشمن ان میزائلوں کو زمین پر پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنا چاہیں گے اور ان میزائلوں کو ذاتی طور پر عدم استحکام کا سبب سمجھا جاتا ہے اور یہ سالٹ ٹو سمجھوتے کے تحت آتے ہیں۔ ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا یہ سمجھوتہ سنہ 1979 میں طے پایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ سال امریکہ نے سرد جنگ کے کئی سالوں بعد اپنے بین الابراعظمی Minuteman 3 زمینی بیلسٹک میزائلوں کی صلاحیت میں کمی کی تھی اور اب یہ صرف ایک جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ امریکی آبدوز سے چلائے جانے والے میزائل اب بھی ایک سے زائد ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ روس کے پاس موجود ایم آئی آر وی نظام میں سمندر اور زمین دونوں سے فائر کیے جانے کی صورت میں یہ کئی ہتھیار ایک ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایم آئی آر وی نظام فرانس اور برطانیہ کے پاس بھی ہیں۔ چین نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام میں اضافے کے ساتھ اپنے جوہری صلاحیتوں میں اضافہ پر زیادہ اضافہ نہیں کیا ہے۔ چین کا شمار عالمی سطح پر تسلیم کی جانے والی پانچ جوہری طاقتوں میں ہوتا ہے اور اس نے ’این پی ٹی‘ سمیت ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے بڑی سمجھوتوں پر دستخط کر رکھے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق چین کے پاس اس وقت 250 جوہری بم ہیں اور ان میں سے تقریباً 20 ڈی ایف فائیو بیلسٹک میزائلوں پر تین تین ہی نصب کیے جا سکتے ہیں اور یہ تعداد امریکہ اور روس کے پاس موجود جوہری ہتھیاروں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔

اس کے باوجود چین کے اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دینے کے فیصلے پر بہت سوں کو تشویش ہے۔ اگرچہ چین کے پاس ہتھیاروں کو جدید بنانے کی ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے موجود تھی تاہم اس کے رہنماؤں نے اس پر آگے بڑھنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور یہ نہیں چاہتے تھے کہ ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ اس طرح شامل ہوں جس طرح روس اور امریکہ ایک دوسرے کی مخالفت میں ایک عرصے تک شامل رہے تھے اور اپنے وسائل کو اس پر خرچ کرتے کرتے نڈھال ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ نے اپنے میزائل ڈیفنس نظام کو ایشیا تک وسعت دینا شروع کی تو بظاہر چین نے اس کے ردعمل میں اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا

اس کے برعکس چین نے ایک ایسی جوہری صلاحیت رکھنے کی پالیسی اپنائی ہے جس کا مقصد حملے کی بجائے کسی بھی جوہری حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کرنا ہے۔

اب جب چین اپنے جوہری پروگرام کو آہستہ آہستہ آگے بڑھا رہا ہے اور اس کے ساتھ بیلسٹک میزائل پروگرام ’ایم آئی آر وی‘ کو تیزی سے ترقی دینے کی وجہ سے چین کی کم از کم عسکری صلاحیت کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر شک کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

چین کے صدر شی جی پنگ نے اس پالیسی کو ترک کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے جارحانہ خارجہ اور معاشی پالیسی اپنائی ہے جس میں جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع جزائر میں فوجی ہوائی اڈے تعمیر کرنا شامل ہے۔ اس کی وجہ سے چین کے ہسمایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور وہ امریکی مدد کے زیادہ زیادہ متلاشی ہوتے جا رہے ہیں۔

جب امریکہ نے اپنے میزائل ڈیفنس نظام کو ایشیا تک وسعت دینا شروع کی تو بظاہر چین نے اس کے ردعمل میں اپنے میزائل پروگرام کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایشیا میں میزائل ڈیفنس نظام نصب کرنے کا مقصد شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ طور پر داغے جانے والے میزائلوں کو ہدف پر پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں تباہ کرنا ہے تاہم چین کو اس پر خدشات ہیں کیونکہ یہ نطام اس کے کچھ ہتھیاروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگرچہ چین کے پاس ہتھیاروں کو جدید بنانے کی ٹیکنالوجی کئی دہائیوں سے موجود تھی تاہم اس کے رہنماؤں نے اس پر آگے بڑھنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا

ممکن ہے کہ چین اپنے ہمسایہ ملک بھارت کے مقابلے میں اپنے میزائل پروگرام کو جدید بنا رہا ہو کیونکہ چین کی بھارت سے سرحدی تنازعے پر مختصر جنگ بھی ہو چکی ہے اور یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے اپنے میزائل کو پرزور طریقے سے بہتر بنانے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ چین کے اس اقدام میں خوف کی وجہ سے اب یہ تیزی سے اپنے پروگرام کو ترقی دے اور اس خوف سے کہ کہیں اس کا دشمن ملک پاکستان، چین سے ’ایم آئی آر وی‘ ٹیکنالوجی حاصل نہ کر لے۔

خطے میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں کی وجہ سے چین اور امریکہ کے درمیان اور مثالی طور پر تمام جوہری طاقتوں کے درمیان بات چیت کی ضرورت بڑھ جاتی ہے تاکہ ایشیا میں سٹریٹیجک استحکام کی فضا قائم رہ سکے۔

چین حکومتی سطح پر بات چیت کی مزاحمت کرتا ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ غیر رسمی بات چیت سے اس ضمن میں پیش رفت کا جواز بنا سکتا ہے۔ امریکہ، روس، برطانیہ اور فرانس اپنے مختلف اقسام کے ہتھیاروں کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی سے اس میں مدد کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں