چینی بحریہ کی امریکی جاسوس طیارے کو وارننگ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چینی بحریہ کے ایک ریڈیو آپریٹر نے غصے میں کہا:’ یہ چینی بحریہ ہے، یہاں سے نکل جاؤ‘

چین کی بحریہ نے جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع پانیوں میں تعمیر کیے جانے والے مصنوعی جزائر کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی جاسوس طیارے کو خبردار کیا ہے۔

چین متنازع جنوبی بحیرۂ چین میں ریتیلی چٹانوں پر مصنوعی جزائر تیار کر رہا ہے۔

’چین کے اقدامات پر امریکہ کو تشویش‘

’ریت کی عظیم دیوار‘

چینی بحریہ کی جانب سے خبردار کیے جانے پر امریکی جہاز میں سوار پائلٹوں نے جواب دیا کہ وہ بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔

اس پر چینی بحریہ کے ایک ریڈیو آپریٹر نے غصے میں کہا:’ یہ چینی بحریہ ہے، یہاں سے نکل جاؤ۔‘

سی این این کے مطابق جاسوسی کرنے کا جدید ترین ہوائی جہاز P8-A Poseidon اس وقت 15 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ اس کی کم ترین بلندی تھی۔

چین کی وزاتِ خارجہ کے ایک ترجمان ہانگ لی نے معمول کی بریفنگ کے بارے میں بتایا کہ وہ سپریٹلی جزائر پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آگاہ ہیں۔

’چین کا حق ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور سمندر میں حادثات کی روک تھام کے لیے متعلقہ فضائی حدود اور پانیوں کی نگرانی کرے۔‘

P8-A Poseidon سے حاصل ہونے والی ویڈیو فوٹیج سی این این پر نشر کی گئی ہے جس میں نئے جزائر کی تعمیر کے حوالے سے سرگرمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ چینی بحریہ کے جہاز قریب ہی تعینات ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ نے حساس نوعیت کی ویڈیو جاری کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی بحریہ کے مطابق چین نے جنوبی چینی سمندر میں چار مربع کلومیٹر کی مصنوعی زمین تیار کر لی ہے

امریکی جہاز کے کپتان مائیک پارکر نے جہاز میں سوار سی این این کے صحافیوں کو بتایا کہ یقینی طور پر چین کی جانب سے متنبہ کرنے کا پیغام فیری کراس ریف کی فوجی تنصیب سے آیا ہے جہاں ایک دو ہزار فٹ لمبا رن وے بھی موجود ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب حال ہی میں چین نے فلپائن کے ایک فوجی ہوائی جہاز کو جنوبی بحیرۂ چین میں واقع سپریٹلی جزائر سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔

سپریٹلی جزائر پر ویت نام، فلپائن، اور تائیوان سمیت کئی ممالک اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اس ان جزائر کے اطراف میں مونگوں کی زندہ چٹانوں پر ریت ڈال کر مصنوعی زمین تیار کر رہا ہے۔ ان میں سے بعض جگہیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جن کو کنکریٹ سے ہموار کیا جا رہا ہے۔ چین نے زمین پر تقریباً چار مربع کلومیٹر کا مصنوعی رقبہ تیار کرلیا ہے۔

عسکری امور کے ماہرین کے مطابق اس علاقے میں فوجی تصادم ہو سکتا ہے کیونکہ گذشتہ ہفتے ہی امریکی حکام نے کہا تھا کہ محکمۂ دفاع پینٹاگون چین کے بنائے جانے والے جزائر کے اطراف میں بحری نقل و حرکت کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید ہوائی اور بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی امریکی وزیرِ خارجہ نے چین کے دورے کے موقعے پر کہا تھا کہ چین جس سمت و رفتار سے جنوبی بحیرۂ چین کے علاقوں پر اپنا دعویٰ پیش کر رہا ہے اس سے انھیں تشویش ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ elvis
Image caption چین کے مصنوعی طور پر تیار کیے جانے والے جزائر پر رن وے بھی ہیں

خیال رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین میں اپنے عسکری سرگرمیاں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس سمندری علاقے سے سالانہ پانچ کھرب ڈالر مالیت کی مصنوعات گزرتی ہیں۔

سال 2013 میں چین نے شمال مشرقی بحیرۂ چین میں اپنے ’فضائی دفاعی علاقے‘ کی حد بندی کی تھی جس میں وہ جزیرہ بھی شامل ہے جس پر جاپان بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

چین کے وزارتِ دفاع کے مطابق جو جہاز بھی اس فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے قوانین کی پابندی کرنی ہو گی یا چین کی طرف سے’ایمرجنسی دفاعی اقدامات‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔

اسی بارے میں