بھارتی ریاست میں ’میگی نوڈلز‘ واپس منگوانے کا حکم

Image caption میگی دو منٹ میں تیار ہونے والے نوڈلز بھارت میں بہت پسند کیے جاتے ہیں

بھارت میں فووڈ انسپیکٹرز نے ’نیسلے انڈیا‘ کو میگی نوڈلز میں سیسے کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے ریاست اتر پردیش کی دکانوں سے اس کی کھیپ واپس منگوانے کا حکم دیا ہے۔

ریاست اتر پردیش کے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یعنی ایف ڈی اے کا کہنا ہے کہ دو درجن پیکٹوں پر کئے گئے ٹیسٹ کے دوران ان میں مونوسوڈیم گلوٹامیٹ کی مقدار بھی حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔

میگی دو منٹ میں تیار ہونے والے نوڈلز بھارت میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

نیسلے انڈیا نے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ ان کے نوڈلز صحت کے لیے نقصان دہ اور غیر محفوظ ہیں۔

سویٹزر لینڈ کی کمپنی نیسلے کا کہنا ہے کہ وہ ان نوڈلز کو انتہائی محفوظ اور معیاری طریقے سے بناتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم ان میگی میں مونوسوڈیم اور گلوٹامیٹ نہیں ڈالتے ہیں، اور اگر یہ پائے گئے ہیں تو وہ قدرتی طور پر ان میں شامل ہونگے۔ ہم حیران ہیں کہ نمونوں میں یہ کیسے آ سکتے ہیں کیونکہ ہم سیسہ کی متواتر نگرانی کرتے ہیں اور یہ ہماری باقاعدہ ذمہ داریوں میں ہے۔‘

تاہم لکھنوو میں ایف ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ جتنے پیکٹس کو ٹیسٹ کیا گیا ہے وہ سب آلودہ تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایف ڈی اے کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل سری واستو کا کہنا ہے کہ ’میگی میں حد سے زیادہ سیسہ اور مونوسوڈیم گلوٹامیٹ کی مقدار موجود ہونے کی وجہ سے ہمیں کمپنی کے خلاف فوراً حکم نامہ جاری کرنا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان میں سیسے کی منظور شدہ حد سے سات گنا زیادہ مقدار موجود ہے۔

مونوسوڈیم گلوٹامیٹ عام طور پر چینی کھانوں میں ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے زیادہ استعمال سے سر درد اور سینے میں درد ہو سکتا ہے اور اس کا لمبے عرصے تک استعمال اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی بارے میں