’گائے کا گوشت کھانا ہے تو پاکستان چلے جاؤ‘

تصویر کے کاپی رائٹ PIB

بھارت میں آج کل بہت سارے لوگ پاکستان کا ’ون وے‘ ٹکٹ تقسیم کر رہے ہیں۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر مختار عباس نقوی نے کہا ہے ’جو بیف کھائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتے انہیں پاکستان یا عرب ملکوں کو چلے جانا چاہیے۔‘

نقوی نے جس ٹی وی شو میں یہ بات کہی اسی میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدين اویسي بھی بحث میں حصہ لے رہے تھے۔

اویسی نے مختار عباس نقوی سے پوچھا کہ کیا وہ ریاست گوا کے وزیر اعلی کو بھی پاکستان جانے کا مشورہ دے رہے ہیں، جنھوں نے گوا کے شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہاں بیف پر پابندی نہیں عائد کی جائے گی؟

سخت گیر ہندو نظریاتی جماعت شیو سینا کے لیڈر مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا مشورہ اس سے پہلے بھی اویسي کو دے چکے ہیں جب انہوں نے مسلمانوں کے لے ریزرویشن کا مطالبہ کیا تھا۔

مارچ میں شیو سینا نے اسد الدين اویسي سے کہا تھا کہ اگر انہیں مسلمانوں کے لیے ریزرویشن چاہیے تو انہیں پاکستان جا کر یہ مطالبہ کرنا چاہیے۔

شیو سینا ’گھر واپسی‘ مہم کی مخالفت کرتے ہوئے بھی یہ کہہ چکی ہے کہ مسلمانوں کو گھر واپس بلانے کے بجائے وہاں بھیجنا چاہیے جہاں محمد علی جناح نے ان کے لیے پہلے سے گھر بنایا ہے۔

گذشتہ انتخابی مہم کے دوران مودی کے مخالفین کو پاکستان بھیجنے کی بات کہنے والے ایک رہنماگری راج سنگھ تو اب مرکزی وزیر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شیو سینا کے لیڈر مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کا مشورہ اس سے پہلے بھی اویسي کو دے چکے ہیں جب انہوں نے مسلمانوں کے لے ریزرویشن کا مطالبہ کیا تھا

پاکستان جانے کا مشورہ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں دیا جاتا بلکہ اگر کوئی ہندو بھی کسی معاملے میں اقلیتوں کی حمایت کرتا پایا جاتا ہے تو اسے بھی پاکستان کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔

بھارت جانے کا مشورہ؟

کیا پاکستان میں بھی لوگوں کو بھارت جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے؟

میں کچھ برس پہلے پاکستان گیا تھا تو وہاں مہاجر کہے جانے والے، بہار اور یوپی سے گئے مسلمانوں کی نوجوان نسل کے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اپنے ملک بھارت واپس جانا چاہتے ہیں۔

میں نے ان سے کہا کہ آپ کے بزرگ بھارت واپسی کی بات کریں تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن آپ تو یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہی آپ کا ملک ہے۔

میں کراچی میں لڑکیوں کے ایک سکول میں بھی گیا تھا جہاں کئی ہندو لڑکیاں بھارت کو ’ہمارا ملک‘، ’ہمارا ہندوستان‘ کہہ رہی تھیں، جب میں نے کہا کہ وہ تو ہمارا ملک ہے، آپ کا ملک تو پاکستان ہے، تو وہ جھینپ گئیں۔

اس معصوم لڑکی کی باتوں میں سادگی تھی، ان پاکستانی نوجوانوں کی باتوں میں ایک درد تھا جو پاکستان کو جہنم کہتے تھے اور بھارت ’واپس‘ آنا چاہتے تھے، لیکن ان میں ایسی جارحیت نہیں تھی جو بھارت کے کچھ لیڈر دکھا ر ہے ہیں۔

اسی بارے میں