فصل تباہ ہونے پر بچے گروی رکھ دیے

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption دونوں بچوں کے بدلے 16 ہزار روپے ملے جس سے پانی کی موٹرخریدی گئی

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں بےموسم کی بارشوں اور ژالہ باری سے متاثر ہونے والے ایک کسان نے اپنے دو بیٹوں ٹيسو اور بیجو کو ایک گڈريے کے پاس گروی رکھ دیا۔

مدھیہ پردیش کے علاقے نماڑ انچل میں جب سركري حکام کو 13 سالہ ٹيسو اور 11 سالہ بےجو کو گروی رکھے جانے کی علم ہوا تو وہ حیران رہ گئے۔

تفتیش کے بعد پتہ چلا کہ مزید تین بچے گروی ہیں۔

ضلع كھرگون کے موہن پورا گاؤں کے لال سنگھ بھلالا نے بی بی سی کو بتایا، ’مرچ کی فصل سے پہلے 60 ہزار کا قرض لیا تھا۔ پہلے مرچ بعد میں گیہوں کی فصل بھی برباد ہو گئی۔‘

لال سنگھ بھلالا کے مطابق، ’تین ایکڑ زمین پر ٹیوب ویل لگانے کے لئے پیسے کم پڑ گئے، لہذا دونوں لڑکوں کو گڈریے بھرو کے پاس ایک سال کے لیے گروی رکھ دیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ بھرو نے اس کے بدلے جو 16 ہزار روپے دیے ان پیسوں سے موٹرخریدی گئی۔

لال سنگھ اور مونی بائی کے دونوں بیٹوں کے علاوہ اسی گاؤں موہن پورہ کے ایک رشتہ دار کا بیٹا بھی نو ماہ پہلے بھرو کے پاس گروی رکھا تھا۔ اس بچے کے بھرو نے 12 ہزار روپے دیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ rajesh chaturvedi
Image caption چائلڈ لائن نے پولیس کو اطلاع دی جس پر ہردا پولیس نے بھرو کے ڈیرے کی تلاشی لی تو ایک بچہ اور ملا

بھرو کا ڈیرہ باناپور، ضلع ہردا میں تھا۔ بچے ان کی بھیڑیں چراتے تھے۔ کئی بار کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔ مارپیٹ کی جاتی تھی۔

لہذا لال سنگھ کے دونوں بچے بھاگ کر باناپور سے 47 کلو میٹر دور ضلع ہیڈکوارٹر ہردا پہنچ گئے.

جہاں لوگوں نے انھیں چائلڈ لائن کے حوالے کر دیا.

چائلڈ لائن نے پولیس کو اطلاع دی جس پر ہردا پولیس نے بھرو کے ڈیرے کی تلاشی لی تو ایک بچہ اور ملا۔

بھرو گڈريے نے تفتتش کے دوران ایک اور گڈریے کا نام بتایا اور کہا کہ اس کے قبضے میں بھی دو بچے ہیں۔ تلاشی لینے پر وہ دونوں بچے بھی برآمد ہو گئے۔

تاہم كھرگون ضلعے کے کلیکٹر نیرج دوبے کا کہنا ہے کہ ’جب میں دونوں بچوں بیجو اور ٹيسو کے گاؤں پہنچا تو اس دن بھی ان کے والد نشے میں دھت تھے۔‘