رات ابھی باقی ہے، بات ابھی باقی ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Turkhan Karimov
Image caption بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک سال میں جتنے ممالک کا دورہ کیا ہے اتنا کسی دوسرے بھارتی وزیر اعظم نے ایک سال میں نہیں کیا ہے

آج سے ٹھیک ایک سال پہلے وزیر اعظم نواز شریف اپنے نئے ہندوستانی ہم منصب کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے دہلی میں موجود تھے۔ دونوں رہنما بچھڑے ہوئے دوستوں کی طرح ملے، اور پھر بچھڑ گئے۔

لیکن نریندر مودی نئے دوستوں کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔

وہ دنیا میں ہندوستان کی تصویر بدلنا چاہتے تھے، لیکن چونکہ وہ سارا کام خود اپنے ہاتھوں سے ہی کرنے میں یقین رکھتے ہیں اس لیے کبھی منگولیا تو کبھی فیجی اور کبھی سیشلز جیسے ممالک جاکر انھوں نے ہندوستان کی تصویر بدلی۔

کئی ملکوں میں تصویر بدلنے کی ضرورت نہیں پڑی ہوگی، وہاں لوگوں کو وزیر اعظم کے پہنچنے سے ہی پتہ چل گیا ہوگا کہ سمندر پار بھی ایک دنیا ہے۔ شاید کسی نے ان سے پوچھا بھی ہو یا پوچھنا چاہا ہوکہ ’یہ کس طرف پڑتا ہے جی آپکا دیش؟ اور مودی نےجھلا کر جواب دیا ہو:’ کہیں بھی ہو، ایسا کھبی نہیں ہوتا کہ پائلٹ پلک جھپکے تو جہاز دوسرے ملک میں پہنچ جائے!‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی نے کبھی منگولیا تو کبھی فیجی اور کبھی سیشلز جیسے ممالک جاکر ہندوستان کی تصویر بدلنے کی کوشش کی

لیکن یہ سچ ہے کہ مودی کے آنے کے بعد سے دنیا نے دوبارہ انڈیا کا نوٹس لینا شروع کیا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی دنیا میں ملک کی تصویر بدلی جاچکی ہے، باقی تقریباً ڈیڑھ سو ملکوں کے لیے ابھی چار سال باقی ہیں!

اپنے انتخابی منشور میں بی جے پی نے بیرون ملک سے کالا دھن واپس لانے کا بھی وعدہ کیا تھا، سوشل میڈیا پر اب لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھائی کالا دھن آتا رہے گا، پہلے وزیراعظم کو واپس لاؤ!

بہرحال، لوگ تو تنقید کرنے کا بہانہ تلاش کرتے ہیں۔ بی جے پی کی حکومت نے بے گھر لوگوں کو چھت فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور پارٹی کے بہت سے رہنماؤں نے اپنی ہمدردی میں سوچا کہ جن لوگوں کے پاس پہلے اچھے گھر تھے لیکن وہ کسی وجہ سے خراب گھروں میں جاکر رہنے پر مجبور ہیں، ان کے لیے بھی کچھ کرنا چاہیے۔

اس لیے گھر واپسی کا پروگرام شروع کیاگیا جو کافی کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ لوگوں کو ان کے پرانے گھر کی خوبیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے اور وہ خود اپنی مرضی سے اور بغیر کسی زور زبردستی کے گھر واپسی کر رہے ہیں، اور گھر لوٹتے ہی کہتے ہیں کہ بھلا ہو اس نئی حکومت کا، ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا کہ ہمارا پشتینی گھر اتنا اچھا ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نریندر مودی کے ایک سال کے رپورٹ کارڈ میں بیرون ممالک کا دورہ سرفہرست ہے

حکومت نے ہر گھر سے ایک فرد کا بینک کھاتہ کھلوانے کی مہم بھی شروع کی ہے جو بہت کامیاب ثابت ہو رہی ہے۔ تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ کروڑوں کھاتے کھولے گئے ہیں، اب بس ان کھاتوں میں پیسے آنے کا انتظار ہے۔

انتخابی مہم کے دوران نریندر مودی نے اعلان کیا تھا کہ بیرون ملک سے اگر ہندوستانیوں کا کالا دھن واپس آجائے تو ہر ہندوستانی کے حصے میں دس پندرہ لاکھ روپے آئیں گے۔ بہت سے لوگوں کے ذہن میں اب یہ سوال ضرور اٹھ رہا ہوگا کہ اگر کالا دھن ہندوستان لانےمیں قانونی رکاوٹیں ہیں توغریب ہندوستانیوں کے کھاتے غیرملکی بینکوں میں کیوں نہیں کھول دیے جاتے، وہاں سے لوکل ٹرانسفر آسان رہے گا۔

بہرحال، بات پاکستان پر ہی ختم کرتے ہیں۔ مودی حکومت نے پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ اس کے کئی بڑے لیڈر پاکستان کے برانڈ ایمبیسڈر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ روز کسی نہ کسی بہانے سے لوگوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے: ’اگر مودی پسند نہیں تو پاکستان جائیے، اگر گائے کا گوشت کھانا ہے تو پاکستان جائیے، اگر ریزرویشن چاہیے تو پاکستان جائیے۔۔۔!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اچھے دن آنے تو چاہئیں لیکن اس چھوٹے سے ملک کی طرح نہیں جہاں پائلٹ نے ذرا آنکھ کیا جھپکی کہ دوسرا ملک آگیا

بی جے پی کی حکومت بس باہر سے سخت ہے، اندر سےبہت نرم دل ہے۔ اگر بڑی تعداد میں سیاح پاکستان جائیں گے تو اس کی میعشت بہتر ہوگی، وہاں روزگار کے نئے موقع پیدا ہوں گے، نوجوان کام کاج میں مصروف ہو جائیں گے تو پاکستان کے مسائل خود بہ خود حل ہونا شروع ہوجائیں گے اور دونوں ممالک پھر ایک دوسرے کے قریب آسکیں گے۔

بی جے پی کے اچھے کاموں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ بس کچھ کا مطلب لوگوں نے غلط نکال لیا۔ لیکن پیغام رسانی میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اسے درست کرنے کا ابھی وقت ہے۔ اچھے دن آنے تو چاہئیں لیکن اس چھوٹے سے ملک کی طرح نہیں جہاں پائلٹ نے ذرا آنکھ کیا جھپکی کہ دوسرا ملک آگیا۔ پھر بھی ہوشیار رہیےگا، پانچ سال بعد کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ اچھے دن آئے تو تھے آپ نے توجہ نہیں دی ہوگی!

بہت سے لوگ پہلے سال کے رپورٹ کارڈ سے خوش ہیں بہت سے بس پانچ سال کا کورس پورا ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں