بھارت میں گرمی سے ہلاکتوں کی تعداد 1100 سے بڑھ گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت کی جنوبی ریاستوں آندھر پردیش اور تیلنگانہ میں گرمی کی لہر کا سب سے زیادہ اثر ہے

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گرمی کی حالیہ لہر کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1100 سے تجاوز کر چکی ہے۔

ملک کے بعض علاقوں میں درجۂ حرارت 50 سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔

زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی ریاستوں آندھرا پردیش اور تیلنگانہ میں ہوئي ہیں جہاں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گرمی کی وجہ سے اب تک 1118 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بھارت کی مشرقی ساحلی ریاست مغربی بنگال اور اڑیسہ (اوڈیشا) میں گرمی کی وجہ سے کم از کم 24 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند دنوں کے دوران بعض علاقوں میں درجۂ حرارت میں کمی کا امکان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP GETTY IMAGES
Image caption ریاستی حکومت نے لوگوں کو گھر کے اندر رہنے اور ضروری احتیاط برتنے کے لیے کہا ہے

آندھرا پردیش میں گرمی سے مرنے والوں کی تعداد 852 ہو گئی ہے جبکہ تیلنگانہ میں یہ تعداد 266 ہے جہاں گذشتہ دنوں درجۂ حرارت 48 ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔

ہسپتالوں کو لو سے متاثرہ لوگوں کے علاج کے لیے ہوشیار کر دیا گيا ہے جبکہ لوگوں سے گھر کے اندر رہنے کے لیے کہا گيا ہے۔

ہر چند کہ بھارت کی جنوبی ریاستوں میں گرمی کے اثرات اپریل کے وسط سے ہیں لیکن سب سے زیادہ ہلاکتیں متاثرہ دو ریاستوں آندھر پردیش اور تیلنگانہ میں گذشتہ ہفتے کے دوران ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گرمی کے اثرات دارالحکومت دہلی کے علاوہ دوسری ریاستوں میں بھی ہے

سب سے زیادہ متاثرہ ریاست آندھر پردیش میں پیر کو درجۂ حرارت 47 ڈگری تک چلا گیا تھا۔

تیلنگانہ میں قدرتی آفات کے محکمے کے کمیشنر بی آر مینا نے بی بی سی کو بتایا: ’منگل کو کچھ راحت ملی ہے۔ کچھ جگہوں پر درجۂ حرارت 45 ڈگری سے نیچے آ گیا ہے۔

دوسری جانب خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آندھر پردیش میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے شعبے کی خصوصی کمیشنر پی تلسی رانی نے کہا: ’ریاستی حکومت نے ٹی وی اور دوسرے میڈیا کے ذریعے آگاہی پروگرام شروع کیا ہے اور لوگوں کو بغیر سر ڈھنکے باہر نہیں نکلنے اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور دوسرے اقدامات کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گرمی سے کوئی تقریب نہیں بچ پائی

انھوں نے کہا کہ ’سرکاری اداروں اور این جی اوز کو شہروں میں پینے کے پانی کے کیمپ لگانے کے لیے کہا گیا ہے تاکہ لوگوں کے لیے پانی فوری طور پر دستیاب ہو۔

حیدرآباد میں رہنے والے آلفریڈ آئنیس کا کہنا ہے کہ عوام کو ابھی تک کوئی امداد نہیں ملی ہے۔

انھوں نے کہا: ’میں نے اپنے پڑوس میں ایک تین سالہ بچے کی لو سے موت دیکھی ہے جو کہ بہت افسوسناک ہے۔ حکومت بہت کچھ نہیں کر رہی ہے تاہم ہم لوگ انفرادی طور پر اپنی جانب سے پوری کوشش کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے

بھارتی محکمہ موسمیات کی ویب سائٹ پر منگل کو جاری تازہ بلیٹن میں کہا گیا ہے کہ ساحلی آندھرا پردیش اور تیلنگانہ میں کچھ جگہوں پر لو کے حالات برقرار ہیں۔ شمالی ساحلی آندھرا پردیش میں ایک دو مقامات پر زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔

دارالحکومت دہلی میں گذشتہ دنوں درجۂ حرارت 45.5C رہا جو کہ گذشتہ دو سال کے دوران ایک ریکارڈ ہے۔

سنہ 2002 اور سنہ 2003 کے دوران بھارت میں گرمی کی لہر میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ سنہ 2010 میں کم از کم 300 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسی بارے میں